مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام

by Other Authors

Page 7 of 439

مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 7

رکھتے تھے۔نماز میں استغراق کا یہ عالم تھا کہ بسا اوقات عدالت سے پیشی کی آواز میں لگ رہی ہوتیں اور آپ خدا تعالیٰ کے حضور دنیاوی معاملات سے بے نیاز ہوکر گریہ وزاری کر رہے ہوتے اور جب تک جی بھر کر اطمینان سے نماز ختم نہ کر لیتے بالکل بے پرواہ رہتے۔اس قسم کا ایک واقعہ مرزا غلام احمد صاحب نے خود بیان فرمایا ہے آپ لکھتے ہیں کہ میں بٹالہ ایک مقدمہ کی پیروی کے لئے گیا، نماز کا وقت ہو گیا اور میں نماز پڑھنے لگا۔چپڑاسی نے آواز دی مگر میں نماز میں تھا۔فریق ثانی پیش ہو گیا اور اس نے یک طرفہ کارروائی سے فائدہ اٹھانا چاہا اور بہت زور اس پر دیا مگر عدالت نے پرواہ نہ کی اور مقدمہ اس کے خلاف کر دیا اور مجھے ڈگری دے دی۔میں جب نماز سے فارغ ہو کر گیا تو مجھے خیال تھا کہ شائد حاکم نے قانونی طور پر میری غیر حاضری کو دیکھا ہو۔مگر جب میں حاضر ہوا اور میں نے کہا کہ میں تو نماز پڑھ رہا تھا تو اس نے کہا کہ میں تو آپ کو ڈگری دے چکا ہوں۔‘1 -11- رویا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت: مرزا غلام احمد صاحب کے تعلق باللہ کی واضح علامتوں کا اظہار اوائل جوانی سے ہی شروع ہو گیا تھا۔زمانہ طالب علمی میں پہلی بار آپ کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خواب میں زیار نصیب ہوئی۔مرزا صاحب لکھتے ہیں: اوائل جوانی میں نے ( رؤیا میں ) دیکھا کہ میں ایک عالی شان : شیخ یعقوب علی عرفانی - حیات النبی جلد اول صفحہ ۵۶