مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 6
۶ گھر سے آتا تھا محلے کے یتیم بچوں کو بلا کر اس میں شریک کرتے۔خود ا کثر بھنے ہوئے دانوں پر ہی اکتفا کر لیتے لا ہم طعام بچوں کو کثرت سے درود شریف پڑھنے کی تلقین کرتے اور نمازوں میں باقاعدگی کی نصیحت کرتے۔اگر چہ مرزا غلام احمد صاحب کو دنیاوی معاملات میں طبعا دلچسپی نہ تھی لیکن والد صاحب کے احکامات کی تعمیل کی خاطر آپ کو جائیداد کے مقدمات کی پیروی کے لئے متعدد بار بٹالہ، امرتسر ، لاہور، گورداسپور اور ڈلہوزی تک جانا پڑا۔ایسے مقدمات میں جہاں دنیا دار لوگ معمولی فوائد کی خاطر ہر قسم کے مکر وفریب اور جھوٹ کا سہارا لیتے ہیں وہاں آپ کا مقدمات کی پیروی کا انداز بالکل نرالا تھا۔چونکہ آپ سچائی کو ہر چیز پر ترجیح دیتے تھے اس لئے اکثر وکلاء کے مشوروں پر عمل درآمد نہیں کر پاتے تھے اور بعض اوقات عین موقع پر مخالف فریق مرزا غلام احمد صاحب کے مدعی کا نمائندہ ہونے کے باوجود ان کا نام اپنے گواہوں میں لکھوا دیتے تھے اور چونکہ آپ ہر قیمت پر بیچ بولتے تھے اس لئے عدالت کا فیصلہ اکثر آپ کے خلاف ہو جاتا ہے۔اس طرح کئی مواقع پر آپ کو اپنے والد صاحب کے سخت سلوک کا نشانہ بننا پڑا لیکن آپ نے راست گفتاری کو نہ چھوڑا۔۲ دوسری اہم خصوصیات جن کا اظہار ان مقدمات کی تکلیف دہ پیروی کے دوران مرزا غلام احمد صاحب کی ذات سے نمایاں طور پر ہوتا تھا وہ تھیں آپ کی عاجزانہ طبیعت اور تعلق باللہ۔ان مقدمات کی پیروی کے دوران بھی نماز کو ہر چیز پر مقدم : شیخ یعقوب علی عرفانی - حیات احمد صفحہ ۱۹۵ : دوست محمد شاہد۔تاریخ احمدیت جلد اوّل صفحہ ۱۰۷