مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 257
۲۵۷ شہادت دی۔آپ نے مرزا امام الدین صاحب کی رقابت و عداوت کی وجوہ بیان کرنے کے بعد اُن کی تعمیر کردہ دیوار کے باعث آپ کے اور آپ کے احباب ، مہمانوں اور نمازیوں کے لئے پیدا ہونے والی دشواریاں بیان کیں۔مقدمہ ۱۰ را گست ۱۹۰۱ ء تک ملتوی کر دیا گیا اور اس دن دونوں طرف کے گواہ ختم ہو گئے اور وکلاء نے بھی اپنی بحث ختم کر لی۔۱۲ اگست ۱۹۰۱ ء فیصلے کا دن تھا۔مرزا امام الدین صاحب اور ان کے ساتھی بہت خوش تھے کیونکہ قانونی کا غذات کا ریکارڈ گواہی دے رہا تھا کہ زمین کے قابض مرزا امام الدین صاحب تھے جبکہ مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے حق میں اب تک ساری گواہیاں زبانی اور کلامی تھیں اور دیوانی مقدمات میں دستاویزات کے مقابلے میں زبانی بیانات کچھ اہمیت نہیں رکھتے۔پھر ڈسٹرکٹ جج میں مخالفانہ رجحان رکھتا تھا۔اس دن اتفاق مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے وکیل خواجہ کمال الدین صاحب کو خیال آیا کہ پرانی مثل کا انڈیکس دیکھنا چاہئے جس میں ضروری احکام کا خلاصہ ہوتا ہے جب وہ دیکھا گیا تو اس میں وہ بات نکلی جس کے نکلنے کی توقع نہ تھی یعنی حاکم کا تصدیق شدہ یہ حکم نکلا کہ اس زمین پر قابض نہ صرف مرزا امام الدین ہے بلکہ مرزا غلام مرتضی صاحب یعنی مرزا غلام احمد صاحب کے والد صاحب بھی ہیں۔تب مرزا غلام احمد صاحب کے وکیل نے سمجھ لیا کہ وحی کے الفاظ کے مطابق ”چکی پھرے گی۔۔۔۔اور ایک بات پیدا ہو جائے گی جو مجھے تعجب میں ڈالے گی۔۔۔سو تمہیں اس مقدمہ میں کھلی کھلی فتح ہوگی کے پورا ہونے کا وقت آن پہنچا ہے۔ڈسٹرکٹ جج کے سامنے یہ