مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 229
۲۲۹ ان انکشافات کا نتیجہ یہ نکلا کہ تقریباً سال بھر غور کرنے کے بعد ۲۵ /ستمبر ۱۹۰۴ء کو ڈاکٹر ڈوئی نے یہ اعلان کیا کہ چونکہ وہ جان مرے ڈوٹی کا حقیقی بیٹا نہیں اس لئے اُس کے نام کے ساتھ آئندہ سے ڈوئی کا نام نہ لکھا جائے۔اے مگر اُس کی یہ حسرت بھی پوری نہ ہوسکی کیونکہ اُس کی قبر کے کتبے پر بھی ڈوئی کا لفظ موجود ہے۔اپنی زندگی میں اُس نے اپنے باپ کے بیان کو صحیح تسلیم نہ کیا بلکہ وہ اپنے آپ کو کسی ڈیوک کا بیٹا کہا کرتا تھا اور اس طرح سے بھی وہ اپنی ماں کی ناجائز اولا د ٹھہرتا تھا۔111- ڈاکٹر ڈوٹی کی بیٹی کی ہلاکت اور ڈاکٹر صاحب کی نسل کا خاتمہ ڈاکٹر ڈوئی کی اولا دایک بیٹا اور ایک بیٹی تھی جو اس کی بیوی جین سے تھے۔بیٹا کلیڈسٹون ڈوئی ۱۸۷۷ء میں پیدا ہوا تھا اور بیٹی مس ایستھر ۱۸۸۱ء میں پیدا ہوئی۔۱۹۰۲ء میں جب ڈاکٹر الیگزینڈر ڈوئی نے اپنے اخبار لیوز آف ہیلنگ میں مرزا غلام احمد صاحب کا تذکرہ بہت اہانت آمیز لہجے میں کیا تھا اس وقت اُس کی بیٹی کی عمر ۲۱ برس کی تھی اور یو نیورسٹی آف شکاگو کی طالبہ ہونے کے باعث شکاگو میں ہی رہتی تھی۔۱۴ مئی ۱۹۰۲ء کو اس کی اکلوتی بیٹی جس سے اُسے بہت محبت تھی لیمپ سے کپڑوں میں آگ لگنے کے باعث جھلس کر مر گئی جس سے ڈاکٹر ڈوئی کو بڑا شدید صدمہ پہنچا۔اس کا بیٹا کلیڈسٹون لمبی عمر تک زندہ رہا۔اس نے ۱۹۴۵ء میں وفات پائی۔چونکہ اس نے ساری عمر شادی نہ کی اس لئے اس کی وفات کے ساتھ ہی ڈاکٹر ڈوئی کی نسل ختم ہوگئی۔ڈاکٹر ڈوئی کی بیوی جین آخری عمر میں اس سے الگ ہو چکی تھی اور ڈاکٹر صاحب نے دوسری شادی بھی نہ کی اس لئے ڈوئی کی نسل بھی آگے نہ چل سکی اس طرح یہ بھی خدا : خلیل احمد ناصر ۱۹۵۴- عبرتناک انجام صفحه ۵۶