مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 197
192 IV- اگر چہ مقدمے کی روداد کا مختصر تذکرہ اوپر درج کر دیا گیا ہے لیکن یہ ایک عام نوعیت کا مقدمہ نہ تھا۔اپنے ممکنہ نتائج کے اعتبار سے بے حد اہم تھا۔ڈاکٹر مارٹن کلارک کے عدالت میں بیان سے بھی ظاہر ہے اور حقائق یہ بتاتے ہیں کہ مقدمے سے پہلے کے عرصہ قریب میں آریہ سماجی لیڈر پنڈت لیکھرام اور ڈاکٹر کلارک کے قریبی ساتھیوں میں سے چند ایک کی خاص طور پر پادری عبداللہ آتھم وغیرہ کی اموات ہو چکی تھیں جن کے لئے مرزا غلام احمد صاحب نے پیشگوئیاں کی تھیں۔ان مخالفین کی اموات میں مرزا صاحب کے دشمن خدا کا ہاتھ نہیں بلکہ مرزا صاحب کی مجرمانہ کاروائی خیال کرتے تھے۔اگر ڈاکٹر مارٹن کلارک کے مقدمہ میں عبدالحمید کے پہلے بیان کے مطابق فیصلہ طے پا جاتا جیسا کہ دنیاوی عدالتوں میں انسانی عقل کی غلطی کے باعث بعض اوقات بے قصور سزا پا جاتے ہیں اور قصور وار بری ہو جاتے ہیں تو باوجود مقدمہ جھوٹا ہونے کے مرزا صاحب دنیا داروں کی نگاہ میں زیر اعتراض آ جاتے اور مخالفین کا یہ شبہ بھی یقین کے قریب پہنچ جاتا ہے کہ پنڈت لیکھرام اور پادری عبد اللہ آتھم کی موت میں بھی مرزا صاحب کا ہاتھ ہو گا۔اس لئے یہ مقدمہ معمولی ہونے کے باوجود مرزا صاحب کے لئے خاص اہم ہو گیا۔اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو پہلے سے اس مقدمہ کی اطلاع دے دی اور بریت کا بھی بتا دیا۔ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ گورداسپور اور سپرنٹنڈنٹ پولیس گورداسپور جو خود بھی دونوں عیسائی تھے ان کی تحقیقات سے اخذ کردہ نتائج کا بیان یہ واضح طور پر بتاتا ہے کہ ڈاکٹر مارٹن کلارک کے کارندے عبدالرحیم ، وارث دین اور پریم داس تینوں عبدالحمید کو