مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 196
۱۹۶ ایسا یقین کر لیا ہو کہ نو جوان قتل کرنے کے ارادے سے آیا ہے اور اس سے اس امر کے تسلیم کرانے میں اُن کو خیال آیا ہو کہ وہ زبر دستی صداقت کو نکال رہے ہیں۔بعد ازاں اپنی غلطی پاکر اس جھوٹے قصے کو اور تفصیلات سے ارادہ کر لیا ہو کہ وہ اس معاملہ کو برابر چلائیں گے۔در باب ان ترغیبات کے جو ڈاکٹر کلارک کی موجودگی میں ہوئیں جن کی نسبت وہ بیان کرتا ہے کہ نہیں ہو سکتی ہیں۔یہ ممکن ہے کہ وہ اس وقت وقوع میں آئے ہوں جبکہ اُس کی توجہ اور طرف مصروف تھی۔۔۔۔خواہ حقیقت کچھ ہو ہمیں بالکل یقین ہے کہ اگر عبد الحمید کو فی الحقیقت عبدالرحیم نے اپنے پہلے بیان کے کرنے میں ورغلایا۔ڈاکٹر کلارک کو دوران کا روائی میں کامل طور سے دھوکا دیا گیا ہے۔یہ بات بھی لکھنے کے قابل ہے کہ مرزا غلام احمد نے اس امر کو کشادہ پیشانی سے مان لیا ہے اور عدالت میں ڈاکٹر کلارک کو ہر ایک قسم کی شمولیت سے مبراء قرار دیا ہے۔۔۔۔جہاں تک ڈاکٹر کلارک کے مقدمہ سے تعلق ہے ہم کوئی وجہ نہیں دیکھتے کہ غلام احمد سے حفظ امن کے لئے ضمانت لی جائے یا یہ کہ مقدمہ پولیس کے سپرد کیا جائے لہذا وہ بری کئے جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔( دستخط ) ایم۔ڈگلس ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ گورداسپور ۲۳ / اگست ۱۶۱۸۹۷ لے: ایم۔ڈبلیو۔ڈگلس فیصلہ مقدمہ ڈاکٹر مارٹن کلارک ( کتاب البریه صفحه ۲۹۵ تا ۳۰۱)