مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 195
۱۹۵ کے مقام پر اظہار لکھانے سے پیشتر دی گئی ہیں بیان کیا کہ میں نہیں خیال کرتا کہ ایسی ترغیبیں میرے علم کے بغیر دی گئی ہوں اور میں نے ہرگز نہیں دیکھا کہ کوئی اس قسم کی بات کی گئی ہو۔خواہ عبدالحمید کا پہلا بیان سچا ہے یا دوسرا تاہم یہ بات ظاہر ہے کہ اس میں وجوہات کافی نہیں ہیں کہ مقدمہ ہذا میں مرزا غلام احمد کے برخلاف کاروائی کی جائے۔۔ہمارا میلان اس خیال کی طرف ہے کہ فی الجملہ دوسرا بیان غالباً سچا ہے اور یہ کہ مرزا غلام احمد نے عبد الحمید کو ڈاکٹر کلارک کے پاس نہیں بھیجا اور نہ اُس نے اُس کو ڈاکٹر کلارک کے مار ڈالنے کو سکھلایا ہے۔‘1 اس کے بعد ڈپٹی کمشنر گورداسپور نے اس مقدمہ میں فیصلہ پر پہنچنے کے لئے جو وجوہات بیان کیں اُن میں وجہ نمبر 4 میں لکھتے ہیں کہ ”اگر عبدالحمید کا بیان جو بمقام بیاس اُس نے کیا ہے سچا ہوتا تو کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی۔کہ کیوں اس نے بعد تسلیم کر لینے کے اس ضروری امر کے کہ وہ ڈاکٹر مارٹن کلارک کے مارنے کے لئے آیا ہے تفصیلات کے بیان کرنے سے رکا رہا۔یہ بات ظاہر ہے کہ بہت سی تفصیلات اُس وقت ظاہر ہوئیں جبکہ وہ نوجوان وارث دین اور پریم داس اور عبدالرحیم کی حفاظت میں بٹالہ میں تھا۔لہذا ہماری یہ رائے ہے کہ۔۔۔غالباً وہی اُس کو تمام وقت ورغلاتے رہے۔۔۔یہ ممکن ہے کہ اُس نے ( عبدالرحیم نے۔ناقل ) اور وارث دین اور پریم داس نے فی الحقیقت ے : ڈپٹی کمشنر گورداسپور۔ایم۔ڈبلیو ڈگلس فیصلہ مقدمہ ڈاکٹر مارٹن کلارک ( کتاب البریہ صفحات ۲۹۲ تا ۲۹۵ مرزا غلام احمد قادیانی)