مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 194
۱۹۴ رہتا ہے اور کہا کہ میں سب سے پہلے قادیان سے امرتسر پہنچتے ہی اُسی کے پاس گیا تھا اور قطب دین نے ایک پتھر وزنی تھیں سیر جس کے ساتھ ڈاکٹر مارٹن کلارک کو مار ڈالنا تھا مہیا کرنے کا ذمہ لیا تھا اور بعد اس کام کے ختم ہونے کے اُس نے قطب الدین ہی کے پاس پناہ لینی تھی۔عبدالحمید نے بیان کیا کہ یہ تمام تفصیل وارث دین نے بٹالہ میں بتائی تھی اور اُس نے قطب الدین کو اپنی زندگی میں کبھی نہیں دیکھا۔عبدالحمید نے یہ بھی بیان کیا کہ ڈاکٹر کلارک کے وکیل رام بھیج دت نامی نے اُس سے کئی دفعہ بٹالہ میں سوالات کئے اور اُس کے ایک ریمارک سے ہی قطب الدین کے ذکر کرنے کی ضرورت پڑی۔وکیل نے اُسے کہا تھا کہ تو پرندہ نہیں ہے۔تو نے کس طرح امرتسر سے بھاگ کر جانے کا ارادہ کیا تھا تمہارا ضرور اس جرم میں کوئی ساتھی ہوگا اور وہ کون ہے؟ عبدالحمید نے اس امر سے انکار کیا۔اس کے بعد وارث دین اُس کے پاس آیا اور اُس نے کہا کہ تم قطب الدین کا نام لے لو اور اُس کی رہائش کی جگہ کا پتہ بتلایا۔اس نے یہ بھی بیان کیا کہ پیشتر اس کے کہ وہ عدالت میں گیا پریم داس نے قطب الدین کا نام اُس کی یعنی عبد الحمید کے ہاتھ کی ہتھیلی پر اس واسطے لکھ دیا کہ وہ اُسے بھول نہ جائے۔مزید سوالات کرنے پر اُس نے کہا کہ اس پنسل سے جو ڈاکٹر کلارک کے ہاتھ میں ہے اور پنسل مذکورہ کی طرف اشارہ کر کے کہا یہی ہے اور یہ وارث دین کی ہے۔یہ تسلیم کیا گیا کہ ایسا ہی ہے۔شہادت میں اول دفعہ تو بمقام بٹالہ بیان کیا گیا تھا کہ عبدالحمید مرزا صاحب کے پاؤں پبلک میں دبایا کرتا تھا۔عبدالحمید نے بیان کیا کہ یہ بات بھی وارث دین کی ایجاد ہے۔ڈاکٹر کلارک کا دوبارہ اظہار اُسی کی درخواست پر لیا گیا۔اُس نے ان ترغیبوں کی بابت جو عبدالحمید کو بیاس