مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام

by Other Authors

Page 192 of 439

مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 192

۱۹۲ عبدالحمید نا گہاں مسٹر لیمار چنڈ کے قدموں پر گر پڑا اور زار زار رونے لگا۔مسٹر لیمار چنڈ نے خود بھی شہادت دی کہ اُس نے نہ تو عبدالحمید کو دھمکایا اور نہ ہی معافی کا وعدہ کیا۔نوجوان کی صورت حال اور وضع قطع سے ظاہر ہوتا تھا کہ وہ فی الحقیقت مصیبت اور تکلیف میں تھے۔ا عبدالحمید کو پھر سے عدالت میں پیش کیا گیا۔اس دفعہ جو بیان اُس نے دیا اس کا خلاصہ ڈپٹی کمشنر گورداسپور نے اپنے فیصلے میں لکھا۔ہم اس کے کم اہم حصے ہذف کر کے مختصراً قارئین کے مطالعہ کے لئے درج کرتے ہیں: وو وہ ( یعنی عبدالحمید - ناقل ) اتفاقاً ایک شخص نور دین امریکن مشن کے پاس بھیجا گیا۔نور دین نے اُسے مسٹر گرے کے پاس بھیجا جس نے۔۔۔اس کو نور دین کے پاس واپس بھیج دیا مگر وہ اپنے ہی خرچ پر عیسائی ہونے کو تیار نہیں تھا۔نور دین نے اُس کو صلاح دی کہ وہ ڈاکٹر کلارک کے پاس جائے۔۔۔وہ ڈاکٹر کلارک کے پاس چلا گیا جس نے اُس کو عبدالرحیم کے حوالے کر دیا اور شہر کے شفا خانے میں اُسے کام کرنے کو دیا۔وہ خیال کرتا ہے کہ عبدالرحیم نے اُس پر شبہ کیا ہے کہ عبدالحمید کسی شخص کو قتل کرنے آیا ہے۔۔۔۔بعد ازاں ڈاکٹر کلارک نے اُس کا فوٹو انتر وایا۔۔۔۔اور عبدالرحیم نے پھر اُسے تنگ کرنا شروع کر دیا اور یاد دلایا کہ اُس کا فوٹو لیا جا چکا ہے وہ بھاگ نہیں سکتا۔اُس کی رپورٹ پولیس میں کی جائے گی ورنہ بہتر ہے کہ وہ سچ سچ بیان کر دے کہ وہ قتل کرنے کے ارادے پر آیا ہے۔کچھ دنوں کے بعد ڈاکٹر کلارک و لے : ایم۔ڈبلیو۔ڈگلس ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ گورداسپور - روداد مقدمہ ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک بنان مرزا غلام احمد قادیانی بحوالہ کتاب البریہ - تصنیف مرزا غلام احمد قادیانی ۱۸۹۸ صفحات ۲۸۳-۳۰۲