مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 134
۱۳۴ مرزا صاحب نے اپنی بریت کے اظہار کے لئے ایک فیصلہ کن چیلنج دیا جس میں آپ نے آریہ صاحبان کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ اگر اب بھی کسی شک کرنے والے کا شک دور نہیں ہوسکتا اور مجھے قتل کی سازش میں شریک سمجھتا ہے۔۔۔تو میں ایک نیک صلاح دیتا ہوں کہ جس سے یہ سارا قصہ فیصلہ ہو جائے اور وہ یہ ہے کہ ایسا شخص میرے سامنے قسم کھائے کہ جس کے الفاظ یہ ہوں کہ میں یقیناً جانتا ہوں کہ یہ شخص سازش قتل میں شریک یا اس کے حکم سے واقعہ قتل ہوا ہے پس اگر یہ میچ نہیں ہے تو اے قادر خدا ایک برس کے اندر مجھ پر وہ عذاب نازل کر جو ہیبتناک عذاب ہو مگر کسی انسان کے ہاتھوں سے نہ ہو اور نہ انسان کے منصوبوں کا اس میں کچھ دخل متصور 66 ہو سکے۔“ پس اگر یہ شخص ایک برس تک میری بد دعا سے بچ گیا تو میں مُجرم ہوں اور اس سزا کے لائق کہ ایک قاتل کے لئے ہونی چاہئے۔اب کوئی بہا در کلیجہ والا آریہ ہے جو اس طور سے تمام دنیا کو شبہات سے چھڑا دے تو اس طریق کو اختیار کرے۔“ شکوک و شبہات کو دور کرنے کے اس فیصلہ کن آسان طریق کو اختیار کرنے کے لئے کوئی آریہ تیار نہ ہوا لیکن مرزا صاحب نے از خود مئی ۱۸۹۷ء میں دور سالے سراج ل : مرزا غلام احمد قادیانی ۱۸۹۷ء- مجموعہ اشتہارات جلد صفحات ۲۵۲-۲۵۳ (اشتہار ۱۵/ مارچ ۱۸۹۷ء)