مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام

by Other Authors

Page xii of 439

مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page xii

مہدی موعود کے طور پر مبعوث کیا ہے۔اپنے دعوے کے ثبوت میں مرزا صاحب نے قرآن ، احادیث اور بزرگان امت محمدیہ کے اقوال پیش کئے اور چھوٹی بڑی ۸۰ کے لگ بھگ کتب بھی شائع کیں لیکن اس بات کے باوجود کہ آپ کی اسلام کی زبر دست مدلل روحانی وکالت کے باعث آپ کے شائع کردہ لٹریچر کو برصغیر کے تعلیم یافتہ طبقے میں بے حد پسند کیا گیا، مسلمانوں کی اکثریت نے آپ کے نبوت کے دعویٰ کو ماننے سے انکار کر دیا بلکہ آج بھی بہت سے مسلمان معاشروں میں مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے دعاوی کو ماننے والوں کو نفرت اور حکارت سے دیکھا جاتا ہے۔ایک صدی گذرنے کے باوجود مسلمانوں کی بڑی بھاری اکثریت مرزا صاحب کے نظریات کی قائل نہیں ہوئی۔پاکستان میں تو مرزا صاحب کے ماننے والوں یعنی احمد یوں کو قانون کی نظر میں غیر مسلم قرار دے دیا گیا ہے اور انہیں شعائر اسلام کی پابندی اور پر چار سے قانو نا روک دیا گیا ہے۔گویا اس وقت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کی مخالفت اس ملک میں اپنے انتہائی نقطہ عروج تک پہنچ چکی ہے۔اتنی شدید مخالفت کے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ پر موجود ہے کہ مرزا صاحب نے نہ صرف اپنی زندگی میں اپنے اردگرد فدائین اور مخلصین کی ایک جماعت جمع کر لی بلکہ آپ کی وفات کے بعد بھی آپ کے ماننے والوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔یہ بات مرزا صاحب کے مخالفین بھی تسلیم کرتے ہیں۔مرزا غلام احمد صاحب قادیانی نے مامور من اللہ ہونے کا دعویٰ سب سے پہلے مارچ ۱۸۸۶ء میں کیا جس کی وضاحت ۱۹۰۱ء میں امتی نبی کی شکل میں کی۔اگر چہ آپ کی وفات ۱۹۰۸ء میں ہوئی لیکن ابتدائی دعوے سے وفات تک ۲۶ سال کا عرصہ