مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام

by Other Authors

Page 95 of 439

مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 95

۹۵ اگر گھر بیٹھ کر کھا تھا تو پھر اس جلسہ بحث کی کیا ضرورت تھی؟ جب ماسٹر صاحب کسی طرح بھی راضی نہ ہوئے تو مرزا صاحب نے کہا۔اچھا جو کچھ لکھا ہے وہی دے دیں تا کہ ہم اس کا جواب الجواب لکھیں۔اس کے جواب میں ماسٹر صاحب نے کہا کہ اب ہماری سماج کا وقت ہے اب ہم بیٹھ نہیں سکتے۔جب وہ جانے لگے تو مرزا صاحب نے ماسٹر صاحب کو مخاطب ہو کر کہا کہ آپ نے اچھا نہیں کیا کہ جو معاہدہ با ہم طے پا چکا تھا اسے توڑ دیا۔نہ آپ نے خود ہمارے سوال کا پورا جواب لکھا۔اور نہ ہمیں جواب الجواب لکھنے کا موقعہ دیا۔اب ہم اپنے جواب الجواب کو بھی کتاب شائع کرتے وقت شامل کر دیں گے۔یہ بات سنتے ہی ماسٹر صاحب اپنے ساتھیوں کے ساتھ اُٹھ کھڑے ہوئے اور مجلس سے نکل گئے۔حالانکہ اس اجلاس میں سامعین کی تعداد غیر معمولی طور پر زیادہ تھی۔صد با مسلمان اور ہندو اپنا کام چھوڑ کر محض مباحثے کی کارروائی دیکھنے کے لئے جمع ہو گئے تھے۔مکان کا صحن حاضرین سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا جن میں کئی وکلا ، روساء اور سرکاری افسران شامل تھے۔اگر چہ قارئین کو یہ باور کرنا مشکل نہ ہوگا کہ بحث کے لئے تیار ہونے سے قبل ماسٹر مرلی دھر کو مرزا صاحب کی صلاحیتوں اور اسلام کی حقانیت کا صحیح اندازہ نہ تھا۔پہلے ہی دن جب انہوں نے مرزا صاحب کی مدل تحریر کو پڑھا تو بعد میں راہ فرار اختیار کرنے کی خاطر بار بار طے شدہ معاہدے کی خلاف ورزی کرتے رہے یہاں تک کہ اُسے ادھورا چھوڑ کر چل دئے۔جسے بعد میں مرزا صاحب نے سرمہ چشم آریہ کے نام سے کتابی شکل میں شائع کیا۔جہاں تک مرزا صاحب کی طرف سے پیش کردہ حوالے کو ستیارتھ پرکاش سے دکھانے کا ماسٹر مرلی دھر کی طرف سے مطالبہ اور اُسے بچے اور