مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 94
۹۴ جھوٹے میں فرق ہو جائے گا۔بہر حال مرزا صاحب کے اس وعدے پر یہ بحث ختم ہوئی کہ مرزا صاحب بحث کی روداد چھپواتے وقت پورا حوالہ درج کر دیں گے اور وہ حوالہ جس پر ماسٹر صاحب کی طرف سے اعتراض کیا گیا کہ ستیارتھ پرکاش میں نہیں اور یہی بچے اور جھوٹے کی تمیز کے لئے کافی ہے یہ تھا۔روحیں اوس وغیرہ پر پھیلتی ہیں اور عورتیں کھاتی ہیں تو آدمی پیدا ہوتے ہیں۔چنانچہ بعد میں مرزا صاحب نے جب اس مباحثہ کی روداد سرمہ چشم آریہ کے نام سے شائع کی تو لکھ دیا کہ یہ عبارت ستیارتھ پر کاش اٹھواں سمولاس صفحہ ۲۶۳ پر درج ہے )۔اس یقین دہانی کے بعد جب بحث بمشکل دوبارہ شروع ہوئی تو مرزا صاحب نے اپنا تحریری اعتراض پیش کیا کہ آریہ سماج کا یہ عقیدہ کہ پر میشر نے کوئی روح پیدا نہیں کی اور نہ ہی وہ کسی کو خواہ کیسا ہی راستباز اور سچا پرستار ہوا بدی نجات بخشے گا خدا تعالیٰ کی توحید اور رحمت دونوں کے منافی ہے۔جب مرزا صاحب کا اعتراض جلسہ عام میں سنایا گیا تو ماسٹر مرلی دھر صاحب وقتی طور پر کچھ گھبرا گئے اور عذر کرنے لگے کہ یہ سوال ایک نہیں دو ہیں لیکن بہت سمجھانے کے بعد کہ سوال ایک ہی ہے جس کے دوجز ہیں ماسٹر صاحب کافی غصے میں جواب لکھنے کے لئے تیار ہوئے۔تین گھنٹے کے بعد ماسٹر صاحب نے سوال کے ایک حصے کا جواب لکھ کر سُنایا اور دوسرے حصے کے متعلق فرمایا کہ اس کا جواب وہ اپنے مکان پر جا کر لکھیں گے اور بعد میں بھجوا دیں گے۔مرزا صاحب نے گھر جا کر جواب لکھنے اور بھیجوانے کی تجویز کو قبول نہ کیا۔اور اصرار کیا کہ معاہدے کے مطابق جو کچھ لکھنا ہے اسی جلسہ میں حاضرین کے رو برو تحریر کریں۔