مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 382
۳۸۲ حضرت اقدس (مرزا غلام احمد صاحب - ناقل ) اور حکیم فضل دین صاحب کو عدالت میں بلایا گیا اور عدالت میں پہرہ لگا دیا گیا اور سپاہیوں کو کہہ دیا گیا کہ سوائے مرزا صاحب اور حکیم فضل دین صاحب کے کوئی دوسرا شخص عدالت کے کمرہ میں نہ آوے اور ایک سپاہی ہتھکڑیاں لے کے عدالت کے کمرہ میں کھڑا کر دیا گیا اور کہہ دیا گیا کہ جرمانہ کا حکم سنتے ہی اگر فوراً جرمانہ ادا نہ ہو تو دونوں صاحبوں کو فوراً ہتھکڑی لگا کر جیل خانہ پہنچا دیا جائے۔حضرت اقدس ان تمام منصوبوں سے بے خبر نہایت بے پروائی سے کمرہ عدالت میں داخل ہو گئے اور ساتھ ہی حکیم صاحب بھی۔خواجہ صاحب حوائج ضروریہ کے لئے گئے ہوئے تھے وہ واپس آئے تو دیکھا کہ حضرت اقدس عدالت کے کمرہ میں اکیلے داخل ہو رہے ہیں۔دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ مجسٹریٹ نے فیصلہ سنانے کے لئے بلایا ہے اور حکم دیا ہے کہ اور کوئی آدمی کمرہ میں نہ آوے۔اُن کا ماتھا ٹھنکا انہوں نے سمجھ لیا کہ خیر نہیں۔بھاگ کر عدالت کے کمرہ کے دروازے پر پہنچے۔اندر گھنے لگے تو دو سپاہیوں نے دروازہ پر دونوں طرف سے آگے بڑھ کر روکا۔انہوں نے کہا۔میں کیسے اندر نہ جاؤں میں ملزمان کا وکیل ہوں اور ساتھ ہی بغیر کسی جواب کے انتظار کے دونوں ہاتھ پھیلا کر دونوں سپاہیوں کو دروازہ کے باہر دھکیل دیا۔ماشاء اللہ تنومند آدمی تھے۔سپاہی پھر نہ بولے۔کمرہ کے اندر گئے تو مجسٹریٹ فیصلہ سنا رہا تھا۔۔وہاں جو سات سو روپے جرمانہ سنا تو