مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام

by Other Authors

Page 361 of 439

مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 361

۳۶۱ مقابلے کی کوشش کے باعث ہلاک ہو گئے۔مولوی کرم دین صاحب نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ مولوی محمد حسن فیضی چونکہ ان کے بہنوئی ہونے کے باعث قریبی عزیز تھے اور مرزا صاحب نے اپنی کتب میں ان کی توہین کی ہے جو تعزیرات ہند کی متعدد دفعات کے تحت مجرم ہے اس لئے حصول انصاف کی خاطر انہوں نے مرزا صاحب اور ان کے دو احباب کے خلاف رائے سنسار چند مجسٹریٹ درجہ اول جہلم کی عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا جس کے لئے عدالت میں حاضری کی تاریخ ۱۷ار جنوری ۱۹۰۳ء مقرر ہوئی۔مولوی کرم دین کے اس مقدمے کا سُن کر مرزا صاحب کے مخالفین میں مسرت کی لہر دوڑ گئی یہاں تک کہ لاہور کے اخبار پنجاب سما چاڑ نے لکھا کہ ”مرزا قادیانی پر نالش ہے۔ان کا طرز تحریر بھی جہاں تک پڑھا ہے ملک کے لئے کسی طرح مفید نہیں بلکہ بہت دلوں کو دکھانے والا ہے۔اگر عدالت نالش کو سچا سمجھے تو مناسب ہے کہ سزا عبرت انگیز دیوے تا کہ ملک ایسے شخصوں سے جس قدر پاک رہے ملک اور گورنمنٹ دونوں کے لئے مفید ہے خدائے علیم و حکیم نے ایک لیم شخص کی نسبت اور اس کے بہتان عظیم کی نسبت مجھے خبر دی۔اور مجھے اپنی وحی سے اطلاع دی کہ یہ شخص میری عزت دور کرنے کے لئے حملہ کرے گا اور انجام کار میرا نشانہ آپ بن جائے گا اور خدا نے تین خوابوں میں یہ حقیقت میرے پر ظاہر کی اور خواب میں میرے پر ظاہر کیا کہ یہ دشمن تین حمایت کرنے والے اپنی : اخبار الحکم قادیان ۳۱ جنوری ۱۹۰۳ء۔صفحہ ۱۳ کالما