مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام

by Other Authors

Page 344 of 439

مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 344

۳۴۴ وو میں حضرت اقدس مرزا غلام احمد کوسا مسیح سمجھتا ہوں اور ان کا ہر دعویٰ جو دین کے متعلق ہے بلا کسی شک و شبہ کے صحیح مانتا ہوں مگر میرے مقابلے پر قاضی فیض اللہ خلف الرشید قاضی ظفر الدین مرحوم یقین کے ساتھ کہتا ہے کہ مرزا صاحب جھوٹا اور ان کا دعوی بالکل گھڑا ہوا اور خود تراشیدہ ہے اس لئے میں قاضی صاحب کے مقابلہ میں مباہلہ کرتا ہوں اور پورا پورا اور کامل یقین مجھے ہے کہ جو ہر دو میں سے جھوٹا ہوگا اللہ تعالیٰ اس پر عذاب الیم نازل کرے گا۔زمین آسمان ٹل جائیں گے۔لیکن یہ عذاب نہیں ملے گا اور وہ اپنی چکار دکھا کر رہے گا۔۔۔پس خدا سے میری دعا ہے کہ وہ جلد تر نتیجہ پیدا کرے میں سنت نبوی کے مطابق ایک سال کی میعاد تجویز کرتا ہوں اور وہ عذاب مجھ عاجز پر یا قاضی پر نازل ہونا چاہئے مثلاً موت یا طاعون یا کسی مقدمہ میں ماخوذ ہو جانا۔۔خاکسار عاجز مہتاب علی سیاح جالندھری مورخه ۱۲ جون ۱۶۱۹۰۶ اس مباہلے کا نتیجہ یہ نکلا کہ فیض اللہ خاں ۱۳ را پریل ۱۹۰۷ء کو ایک سال کی میعاد کے اندر اندر بمقام جموں نہ صرف خود طاعون سے ہلاک ہوا بلکہ بعض دوسرے عزیزوں کو بھی لے ڈوبا اور اس طرح اپنی ہی تحریر کے مطابق خود مر کر اپنے جھوٹے ہونے اور مرزا غلام احمد صاحب کی صداقت پر مُہر لگا گیا۔ل : مرزا غلام احمد قادیانی ۱۹۰۷ ء-حقیقۃ الوحی۔تتمہ۔صفحات ۱۶۵-۱۶۶