مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 303
٣٠٣ بھی آتے رہتے اور مرزا صاحب کی تصانیف میں بھی مالی مدد دیتے۔جب کبھی مرزا صاحب لدھیانہ، انبالہ یاکسی اور جگہ جاتے تو منشی صاحب بھی کوشش کر کے وہاں پہنچتے تا کہ مرزا صاحب کی خدمت کا کوئی موقعہ مل سکے۔اس طرح منشی صاحب مرزا صاحب کے ساتھ اخلاص اور عقیدت کا برتاؤ کرتے۔کچھ عرصے کے بعد انہیں یہ احساس ہوا کہ انہیں بھی الہام ہوتا ہے۔اس کے ساتھ ہی منشی صاحب میں مرزا صاحب کے ساتھ تعلق میں ایک تبدیلی آنے لگی وہ اپنے آپ کو خدا کا پاکیزہ اور برگزیدہ بندہ سمجھنے لگے یہاں تک کہ انہوں نے اور ان کے ایک اور ساتھی منشی عبدالحق صاحب اکو نٹنٹ نے ۱۸۸۹ء میں نہ صرف مرزا صاحب کی بیعت نہ کی بلکہ با قاعدہ مخالفت میں بہت آگے بڑھ گئے۔اے مرزا صاحب اور منشی الہی بخش صاحب اکو نٹنٹ کے درمیان چونکہ کافی عرصہ تک مخلصانہ تعلقات رہے تھے اس لئے طبعا مرزا صاحب کو ان کی بدلی ہوئی حالت پر افسوس ہوا۔مرزا صاحب نے ان دنوں ایک رسالہ تحریر کیا جس کا نام اور موضوع بحث ضرورۃ الامام تھا اس میں مرزا صاحب نے لکھا کہ امامت کے لئے کس قدر اخلاق ، قوت امامت، بسطت في العلم ، عزم ، اقبال علی اللہ کی قوتوں اور کشوف والہامات کا سلسلہ ضروری ہے۔آپ کا رسالہ لکھنے کا مقصد ایک یہ بھی تھا کہ منشی الہی بخش صاحب کے وساوس کو دور کر کے انہیں گمراہی سے بچایا جا سکے۔اس کے پڑھنے کے بعد منشی صاحب کھل کر مرزا صاحب کے مخالف بن گئے۔نوبت یہاں تک پہنچی کہ انہوں نے : مرزا غلام احمد صاحب ۱۹۰۷ ء - حقیقۃ الوحی - تتمه صفحه ۵۳۴