مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام

by Other Authors

Page 282 of 439

مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 282

۲۸۲ میں مباحثہ ہوا جو بعد میں مباحثہ الحق دہلی کے نام سے شائع ہوا۔مباحثہ شرائط کے مطابق جاری نہ رہ سکا۔مباحثے کی ایک شرط تو یہ تھی کہ فریقین نے جو کچھ بحث میں لکھنا ہو گا وہ سب جائے مباحثہ پر ہی لکھنا ہوگا نہ کہ پہلے سے کچھ لکھا ہوا پیش کیا جائے۔مولوی محمد بشیر صاحب نے پہلے ہی دن اس شرط کو توڑ دیا اور وہ اس طرح کہ مولوی صاحب نے مرزا صاحب سے درخواست کی کہ وہ ایک کونے میں بیٹھ کر اطمینان سے اپنا پہلا مضمون لکھنا چاہتے ہیں۔یہ کہہ کر وہ ایک گوشے میں چلے گئے اور اپنے پہلے سے لکھے ہوئے مضمون کو جو وہ گھر سے لائے تھے دوسرے کاغذ پر نقل کرنا شروع کر دیا۔جب اُن سے پہلے سے طے شدہ شرائط کی خلاف ورزی کی طرف توجہ دلائی گئی تو انہوں نے کچھ تو جیہات پیش کیں کہ پورا مضمون نہیں بلکہ صرف کچھ حوالہ جات لکھے ہوئے ہیں۔اُن سے درخواست کی گئی کہ لکھا ہوا مضمون ہی دے دیں تا کہ وقت ضائع نہ ہو اور مرزا غلام احمد صاحب جواب لکھ سکیں۔چنانچہ مرزا صاحب نے اول سے آخر تک ان کے مضمون پر تیز نظر دوڑائی اور جواب لکھنا شروع کر دیا۔مرزا صاحب نے جواب اس قدر تیزی سے لکھنا شروع کیا کہ زود نو لیس بھی حیران رہ گئے اور مولوی سید محمد بشیر صاحب بھی گھبرا گئے کہ ان سے اس روانی سے جواب لکھناممکن نہ ہو سکے گا۔چنانچہ پہلے ہی دن مولوی صاحب نے مرزا صاحب سے درخواست کی کہ اگر وہ اجازت دیں تو مولوی صاحب اپنا جواب گھر سے لکھ کر لائیں۔۲۳ /اکتوبر سے ۲۷ اکتوبر ۱۸۹۱ء تک یہ مباحثہ جاری رہا اور فریقین کی طرف سے پانچ پانچ کی بجائے ابھی تین تین پرچے ہوئے تھے کہ مرزا صاحب نے اس مباحثے کو مزید جاری رکھنے سے ختم کر دیا۔اس کی کئی وجوہ تھیں۔ایک تو یہ کہ مولوی سید محمد بشیر صاحب نے