مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 5
گویا میں دنیا میں نہ تھا۔قرآن ، حدیث اور دیگر مذاہب کی کتب کے مطالعہ کے ساتھ ساتھ اسلام اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کئے جانے والے اعتراضات اور مسلمانوں کی زبوں حالی نے آپ کی جو قلبی کیفیت کر رکھی تھی اس کا اظہار آپ نے ایک لمبی غزل میں کیا ہے جس کے تین اشعار نمونے کے طور پر درج ذیل ہیں۔وو ” دین و تقویٰ گم ہوا جاتا ہے یا رب رحم کر بے بسی سے ہم پڑے ہیں۔کیا کریں۔کیا اختیار میرے آنسو اس غم دلسوز سے تھمتے نہیں دیں کا گھر ویران ہے۔دنیا کے ہیں عالی مینار اے مرے پیارے مجھے اس سیلِ غم سے کر رہا ور نہ ہو جائے گی جان اس درد سے تجھ پر نثار ہے ۲ مسلسل شب بیداری ، کثرت عبادات و مطالعہ کتب ، شبانہ روز دماغی محنت اور اسلام کے شدید قلبی در دو غم نے آپ کی صحت پر گہرے اثرات مرتب کئے۔۳۰ سال کی عمر سے ہی آپ کے سر کے بال سفید ہونے شروع ہو گئے۔دوران سر اور ذیا بیطیس کے عوارض بھی لاحق ہو گئے۔۱۸۸۰ء میں آپ پر قولنج زمیری کا شدید حملہ ہوا جس سے بمشکل جانبر ہوئے مگر دنیوی تفکرات اور جسمانی بیماریوں سے آپ کے معمولات میں کوئی فرق نہ پڑا۔کھانا شروع سے بہت کم مقدار میں کھاتے۔جو کھانا ل : مرزا غلام احمد ۱۸۹۸ ء - کتاب البریہ طبع دوئم صفحه ۱۵۰ : مرزا غلام احمد ۱۸۹۸ء- در ثمین صفحات ۱۴۵ تا ۱۴۷