مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام

by Other Authors

Page 193 of 439

مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 193

۱۹۳ عبدالرحیم و وارث دین ، پریم داس سب کے سب بیاس میں آئے۔اُس سے تاکید سے پوچھا۔عبدالحمید مع دیگر اشخاص کی جماعت میں فرش کے اوپر بیٹھا ہوا تھا اور ڈاکٹر کلارک کچھ فاصلے پر ایک کرسی پر بیٹھا تھا۔وہ استقلال سے انکار کرتا رہا کہ وہ کسی بُرے ارادے سے یہاں پر نہیں آیا مگر عبدالرحیم نے اس کے کان میں کہا کہ بہتر ہے کہ وہ تسلیم کرے کہ وہ ڈاکٹر کلارک کو مرزا صاحب کے کہنے پر ایک پتھر سے مارڈالنے کے لئے آیا ہے ورنہ اُس کے لئے زیادہ خرابی کا باعث ہو گا اور ڈاکٹر کلارک اس کا ذمہ دار ہو گا کہ اس کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔اس نے اس کو مان لیا اور اقبال لکھ دیا پہلے اُس نے لفظ نقصان لکھا اور عبدالرحیم نے اُسے کہا کہ بجائے اس کے لفظ مارڈالنا درج کرو۔بعد ازاں انہوں نے کہا۔ہم تمہارا شکر یہ ادا کرتے ہیں ہماری مراد پوری ہو گئی۔عبدالرحیم و پریم داس اور وارث دین بعد ازاں مسلسل جھوٹی شہادت تیار کرتے رہے جو مجبوراً اُن کے کہنے سے اُسے عدالت میں دینی پڑی۔۔۔اس نے نور الدین مولوی کو قادیان میں اس غرض سے چٹھی لکھی تھی تا اُن کو معلوم ہو کہ اُس کا ارادہ عیسائی بننے کا ہے۔عبد الرحیم نے اُسے بٹالہ میں کہا تھا کہ وہ اس چٹھی بھیجنے کوکسی اور امر کی طرف منسوب کر دے یعنی یہ کہ اُس نے نورالدین کو اس لئے چٹھی لکھی تھی کہ مرزا صاحب کو اس کا پتہ معلوم ہو جائے۔عبدالرحیم نے بٹالہ میں اُسے یہ بھی کہا تھا کہ ٹھیک ہے کہ اس نے مرزا صاحب کو جانے سے پہلے گالیاں دی تھیں حالانکہ اُس نے کوئی گالی نہیں دی تھی۔امرتسر میں اُس کو کہا گیا کہ تو یہ کہہ دینا کہ میرا دل اس واسطے بدل گیا کہ میں نے ڈاکٹر کلارک کو اچھا آدمی پایا۔۱۳ تاریخ کو بوقت جرح عبدالحمید نے پہلی ہی بار مرزا غلام احمد صاحب کے ایک مرید قطب دین نام کا ذکر کیا جو امرتسر میں