مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام

by Other Authors

Page 191 of 439

مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 191

۱۹۱ اور ملائمت خلق۔ڈپٹی کمشنر گورداسپور کیپٹن ایم۔ڈبلیو۔ڈگلس نے ۱۰ اگست ۱۸۹۷ء کو مقدمے کی سماعت شروع کی۔عبدالحمید نوجوان جس کا ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ امرتسر کی عدالت میں یکم اگست ۱۸۹۷ء کو دیا گیا پہلا بیان اس مقدمہ کی بنیاد بنا تھا۔اُس کا تیسرا بیان ۱۳ اگست ۱۸۹۷ء کوڈ پٹی کمشنر گورداسپور کی عدالت میں ہوا۔اُس کے بیان سے ڈپٹی کمشنر نے محسوس کیا کہ نہ صرف عبدالحمید کے مختلف موقعوں پر دیئے گئے بیانات میں اختلاف تھا بلکہ اُس کی وضع قطع اور بیان دیتے وقت اُس کی حالت قابل اطمینان یہ تھی اور اُس کے بیان کے بعض حصے بعید از عقل تھے۔اس سارے عرصے کے دوران عبدالحمید بٹالہ کے عیسائی مشن کے آدمیوں خاص طور پر عبدالرحیم، وارث دین اور پریم داس کی تحویل میں رہ رہا تھا۔ڈپٹی کمشنر گورداسپور نے مشاہدہ کیا کہ دن بدن عبدالحمید کا بیان مفصل اور طویل ہوتا جا رہا تھا۔اُس نے اندازہ لگایا کہ یا تو کچھ لوگ اسے سکھلاتے ، پڑھاتے ہیں یا وہ اس سے زیادہ جانتا ہے جو وہ اب تک ظاہر کر چکا ہے۔ہے چنانچہ ڈ پٹی کمشنر نے ڈسٹرکٹ سپر نٹنڈنٹ پولیس سے مشورہ کر کے عبدالحمید کو پولیس کے حوالے کر دیا تا کہ آزادانہ تحقیقات ہو سکے۔ایس۔پی گورداسپور مسٹر لیمار چنڈ نے کچھ دیر عبدالحمید سے اپنے ماتحت افسروں کے ذریعے پوچھ کچھ کروائی اور پھر مقدمے کی اہمیت کے پیش نظر تقیل اپنے ہاتھ میں لے لی لیکن کچھ ہی دیر بعد ل : مرزا غلام احمد قادیانی ۱۸۹۸ ء - کتاب البریہ۔ٹائٹل صفحه : ایم۔ڈبلیو۔ڈگلس ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ گورداسپور- روداد مقدمہ ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک بنام مرزا غلام احمد قادیانی بحوالہ کتاب البریہ - تصنیف مرزا غلام احمد قادیانی ۱۸۹۸ء صفحات ۲۸۳ تا۳۰۲