معجزات القرآن

by Other Authors

Page 96 of 126

معجزات القرآن — Page 96

دو “ 189 “ 190 انہی کی ملکیت اور ان ہی کی ایجاد کردہ ہیں مگر کل کو یہ تمام ھڈھڈ اسلام کی خدمت کیلئے مسخر ہونے والے ہیں۔ھدھد کا ذکر قرآن شریف کی سورۃ نمل میں ہے اور سورۃ نمل کا خصوصی لگاؤ پندرھویں صدی سے ہے۔لہذا پندرھویں صدی میں یہ ایک ایسی مشین ایجاد کرادی ہے جو مکانات کو اور چلتی پھرتی گاڑیوں کو ہر شخص کی طبیعت کے تقاضا کے مطابق گرم اور ٹھنڈا رکھ سکتی ہے اور اپنے عمل سے قرآن شریف کے منجانب اللہ ہونے پر گواہی دے رہی ہے۔آلات کفر و ضلال کی نسبت اسلام اور ایمان کے زیادہ خدمت گزار اور زیادہ مقر آن مجید سائنس کا امام ہے: فرمانبردار ثابت ہوں گے۔ان شاء اللہ۔ٹیپ ریکارڈر: " مَا يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ (ق:19) یہ قرآن شریف کے الفاظ ہیں ان کا مطلب یہ ہے کہ انسان جو بھی بات اپنے منہ سے نکالتا ہے ایک چست نگران اسے فوراً محفوظ کر لیتا ہے۔غور فرمائیے کہ جب یہ الفاظ نازل ہوئے تھے کیا کسی کے وہم و گمان میں بھی یہ بات آسکتی تھی کہ کیا کسی وقت اللہ تعالیٰ ایک ایسی مشین ایجاد کرا دے گا جو آواز کو قید کر کے اسے محفوظ کرلے گی اور پھر یہ آواز رفتہ ہر وقت دوبارہ سنی جاسکے گی۔لیکن آج یہ مشین به بانگ دہل یہ اعلان کر رہی ہے کہ قرآن شریف بلاشبہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور یہ کہ انسان جو بھی بات منہ سے نکالتا ہے وہ ضائع نہیں جاتی بلکہ فضا میں محفوظ رہتی ہے اور اللہ تعالیٰ جب چاہے اسے دوبارہ سنا سکتا ہے۔ائیر کنڈیشن (Air Condition): لا يَرَوْنَ فِيهَا شَمْسًا وَلاَ زَمْهَرِيرًا “ (الدهر : 14) یعنی اہل جنت جب جنت میں ہوں گے تو وہاں نہ تو موسم گرما کی تمازت انہیں تنگ کرے گی اور نہ موسم سرما کی سخت ٹھنڈک انہیں پریشان کرے گی بلکہ وہاں ہوا کی کیفیت معتدل ہوگی اور ہر شخص کی طبیعت کے تقاضا کے مطابق ہوگی۔لہذا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس دعویٰ کی صحت کی گواہی دلانے کیلئے زمانہ حال میں دور حاضر میں سائنس نے جتنی بھی ترقی کی ہے وہ الہام الہی کا نتیجہ ہے ورنہ عقل بیچاری بغیر الہام کی روشنی کے اس قابل نہ تھی کہ یہ حیرت انگیز اختراعات وجود میں لاسکتی۔اللہ تعالیٰ حسب ضرورت اپنے بندوں کو علمی ترقی کی منازل کی طرف لے جارہا ہے۔قرآن شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ آسمان میں بھی جاندار مخلوق موجود ہے۔وَمَابَةٌ فِيهِمَا مِن دَابَّةٍ ( شوری: 30) ( ترجمہ: اور جو اس نے ان دونوں میں چلنے پھرنے والے جاندار پھیلا دیئے ) اور ایک وقت آئے گا کہ اس زمینی اور آسمانی مخلوق کا باہم رابطہ قائم ہو جائے گا۔سوسائنسدانوں کو چاہئے کہ اس مخلوق سے رابطہ پیدا کرنے کیلئے پوری سعی کریں۔نیز قرآن شریف سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ سورج اپنے سارے خاندان سمیت موسفر ہے۔وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرَّلُهَا (يس: 39) ( ترجمہ: اور سورج (ہمیشہ) اپنی مقررہ منزل کی طرف رواں دواں ہے۔) سائنسدانوں کو چاہئے کہ وہ اس سفر کے اثرات اور نتائج کا پتہ لگائیں اور معلوم کریں کہ حیات بشری پر اس سفر کا کیا اثر پڑ رہا ہے۔نیز قرآن مجید سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ نوع انسانی کی عمر ایک کروڑ چالیس لاکھ سال ہے اور یہ حقیقت ان مراحل سے منکشف ہوتی ہے جو کہ ایک بچہ اپنی ماں کے پیٹ میں طے کرتا ہے۔یہ سات مراحل ہیں اور ہر مرحلہ چالیس دن میں طے ہوتا ہے گو یا دوسواسی (280) دن میں بچہ تعمیل کو پہنچتا ہے۔اللہ تعالیٰ