معجزات القرآن — Page 86
”“ " 169 تم سے طور کے دائیں جانب ایک معاہدہ کیا اور تم پر من وسلویٰ اتارے۔لغت عرب میں متوازی پہاڑ اور متوازی دیوار میں طور کہلاتی ہیں سوموسوی سلسلہ اور محمدی سلسلہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک دو متوازی سلسلے ہیں حضرت موسیٰ کے سلسلے کی ابتدا عرب کے مغرب کی طرف سے ہوئی اور محمدی سلسلہ کا آغاز مشرق کی طرف سے ہوا۔اس لئے بائبل میں عرب کو عبرانی زبان میں لفظ ” قدوم“ سے یاد کیا گیا ہے جس کے معنی مشرق کے ہیں اور سورۃ مریم میں بھی یہی بتایا گیا تھا کہ انوار مشرق کی طرف منتقل ہوئے۔سو اس سورۃ میں جانب ایمن سے مراد سلسلہ محمدیہ ہے جس میں بنی اسرائیل کے لئے مقدر ہے کہ وہ آخر کا ر اس میں داخل ہو کر امن پائیں گے اور فساد فی الارض کی بیماری سے محفوظ ہو جائیں گے۔لفظ ایمن“ لفظ ”طور“ کی صفت نہیں بلکہ لفظ ” جانب کی صفت ظاہر کی گئی ہے تاکہ ظاہر ہو کہ جانب شرقی ہی میمون اور مبارک ہے۔پھر فرمایا: فَتَنَّا قَوْمَكَ مِنْ بَعْدِكَ “ (طہ: 86) ترجمہ: ہم نے تیری قوم کو تیری غیر حاضری میں آزمایا۔ان الفاظ میں دراصل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بتا یا گیا ہے کہ آپ کے بعد آخری زمانے میں ایک بہت بڑا فتنہ برپا ہوگا اور آپ کی قوم بھی اس فتنے کی لپیٹ میں آجائے گی۔چنانچہ آج یہی ہو رہا ہے کہ مسلمان اپنی وضع تمدن اور اسلامی شعار کو ترک کر کے مغربیت کی رو میں بہہ گئے ہیں۔پھر فرمایا۔فَأَخْرَجَ لَهُمْ عَجَلًا جَسَدً الَّهُ خُوَارٌ ( طہ: 89) ترجمہ: پھر وہ ان کے لئے ایک ایسا بچھڑا نکال لایا جو ایک ( بے جان ) جسم تھا جس کی گائے جیسی آواز تھی۔قرآن کریم میں بچھڑے کے معبود بنانے کا ذکر سورۃ اعراف میں بھی آیا ہے گویا سورۃ اعراف میں یہ پیشگوئی کی گئی تھی کہ آپ کی قوم آپ کے بعد کسی گوسالہ پرست قوم میں رہ کر فتنے میں پڑ جائے گی سو یہ پیشگوئی سورۃ طہ میں پوری ہوتی دکھائی گئی ہے۔سیدنا “ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کولیکھر ام کے متعلق الہام ہوا:۔عجل جَسَدٌ لَّهُ خَوَارٌ لَّهُ نَصَبٌ وَعَذَابٌ 170 ( تذکرہ صفحہ 229 ایڈیشن سوم ) اور پھر تفہیم ہوئی کہ مقلۂ یعنی لیکھرام کی کیفیت اب سامری کے گوسالہ کی سی ہے جو روحانیت سے بالکل خالی اور بلند بانگ دعوی کرنے والا اور ڈینگیں مارنے کا عادی ہے سو اس کے لئے وہی سزا مقدر ہے جو سامری کے بچھڑے کے لئے تھی یعنی جلایا جانا اور بہایا جانا۔اس الہام میں دراصل ہندو قوم کے متعلق پیشگوئی کی گئی ہے کہ یہ قوم جو گوسالہ پرست ہے سامری کے گوسالے کی طرح پہلے جلائی جائے گی پھر دریا میں بہائی جائے گی ہندو قوم دراصل مصر سے آئی ہوئی ہے اور یہ گوسالے کی پرستش اسی سامری تعلیم کے ماتحت کرتی چلی آرہی ہے۔چنانچہ پڑھے لکھے ہند و کو جو کچھ طب بھی جانتا ہو ”مصر“ کہا جاتا ہے۔سیدنا حضرت بانی سلسلہ احمدیہ فرماتے ہیں: د لیکھر ام مغضوب علیہ تھا۔آریہ بھی یہود میں داخل ہیں ان کا ھون وغیرہ تمام رسوم یہود سے ملتی ہیں بعض نے لکھا ہے کہ برہمن مصرجی اس لئے کہلاتے ہیں کہ یہ لوگ مصر سے آئے تھے۔( ملفوظات جلد دوئم صفحہ 419 جدید ایڈیشن) اس کے علاوہ ہندوؤں کی ایک قدیم کتاب میں جو سینکڑوں سال قبل لکھی گئی تھی مذکور ہے۔پرتی سرگ پرب۔کھنڈا۔ادہیائے 5۔شلوک 30۔سرسوتی ندی کے پوتر بر ہماورت کے ماسوا سارا جگت ملیچھ آچار یہ حضرت موسیٰ کے پیرووں سے بھرا پڑا ہے ( بحوالہ بھوشیہ پر ان کی آلو چنا۔مؤلفہ پنڈت منسارام جی کرت صفحہ 9)