معجزات القرآن

by Other Authors

Page 117 of 126

معجزات القرآن — Page 117

232 " “ 231 باہمی ربط اپنے آپ ہمارے سامنے آجاتا ہے۔مثال کے طور پر دیکھئے مثلاً اللہ تعالیٰ سورۃ احقاف کے آخر میں فرماتا ہے۔فَهَلْ يُهْلَكُ إِلَّا الْقَوْمُ الْفَاسِقُونَ سورة احقاف کے بعد سورۃ محمد ہے۔اس کی پہلی آیت کے الفاظ الَّذِينَ كَفَرُوا “ ہیں۔اب صاف ظاہر ہے کہ دونوں سورتوں میں باہم ربط ہے۔ایسے ہی سورۃ طور کے آخر میں فرمایا وَمِنَ اللَّيْلِ فَسَبِّحْهُ وَإِدْبَارَ النُّجُومِ سورۃ طور کے بعد دوسری سورۃ النجم ہے۔اس کے شروع میں فرمایا وَ النَّجْمِ إِذَا هَوَى‘ اس سے بھی ظاہر ہے کہ دونوں سورتوں میں باہم ربط ہے۔ایسے ہی سورۃ واقعہ کے آخر میں فرمایا ” فسبح بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ “ اس کے بعد آنے والی سورۃ الحدید کو سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي السمواتِ وَالْأَرْضِ کے الفاظ سے شروع فرمایا۔اس سے بھی صاف ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں سورتوں میں باہم ربط ہے اور یہ ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ جملہ مسجات بھی باہم مربوط ہیں۔ایسے ہی سورۃ الفیل کے آخر میں فرمایا۔’ فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مأكول‘ اس کے بعد سورۃ قریش کو لإيلافِ قُريش“ سے شروع فرمایا تا ظاہر ہو کہ اصحاب فیل کو اللہ تعالیٰ نے اس گئے ہلاک کیا کہ خانہ کعبہ کے محافظ قریش محفوظ رہیں۔66 جملہ مثالوں سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوتی ہے کہ قرآن شریف کی جملہ سورتوں میں باہم ربط ہے اور اگر انسان کو کسی جگہ باہم ربط نظر نہ آئے تو اس کے دو سبب ہیں: اول : یہ کہ انسان کمزور ہے اور اس کا حافظہ بھی کمزور ہے اس کو بسا اوقات یہ بات بھول جاتی ہے کہ وہ کن کن مضامین سے گزر کر آیا ہے۔اسی لئے اسی نسیان کے باعث اس کو ربط نظر نہیں آتا۔علاوہ ازیں یہ امر بھی قابل غور ہے کہ ترتیب کے معنے کیا ہیں۔لفظ ترتیب مختلف کیفیات پر اطلاق پاسکتا ہے۔اگر علما ء اسلام کو یہ اجازت دے دی جائے “ کہ آپ اپنے منشا کے مطابق قرآن شریف کی سورتوں کو ترتیب دے دیں تو ہر عالم کی ترتیب الگ ہوگی اور سینکڑوں میں سے دو عالم بھی متفق نہیں ہو سکیں گے۔آسمان کے ستاروں کو دیکھئے ان میں باہم ترتیب نظر نہیں آتی حالانکہ ان میں انتہائی لطیف تربیت کا ہونا بد یہی امر ہے کیونکہ اگر ان میں ترتیب نہ ہوتی اور باہم توازن قائم نہ ہوتا تو یہ آپس میں ٹکر اٹکرا کر ختم ہوجاتے اور زمین کو اور اس میں رہنے والوں کو وہ جو فائدہ پہنچارہے ہیں نہ پہنچا سکتے۔دوسرا سبب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ عالم الغیب ہے اور انسان عالم الغیب نہیں ہے۔لہذا لازم آتا ہے کہ قرآن شریف کے حقائق و معارف رفتار زمانہ کے مطابق اپنے اپنے وقت پر ظاہر ہوتے رہیں۔جوں جوں زمانہ گزرتا جائے گا توں توں قرآن شریف کی سورتوں میں باہمی ربط نمایاں طور پر سامنے آتا جائے گا۔ترتیب قرآن شریف کا تیسرا پہلو زمانی ہے اور اس کی کلید حروف مقطعات ہے۔حروف مقطعات قرآن شریف کی ہر سورۃ کا کسی نہ کسی زمانہ سے لگاؤ دکھاتے ہیں۔قرآن شریف کے مضامین پر وقت کا پردہ پڑا ہوا ہے لیکن حروف مقطعات جب یہ پردہ اٹھا دیتے ہیں تو قرآن شریف کا ہر وہ مقام جو بے رابطی کا مظہر ہوسکتا ہے۔وہی مقام نہایت حکیمانہ شان کا مظہر بن جاتا ہے اور قرآن شریف کے وہ قصے جنہیں عام پر قصص ماضیہ سمجھا جاتا ہے پیشگوئیوں کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔طور (روز نامہ الفضل 19 فروری1980ء)