معجزات القرآن

by Other Authors

Page 106 of 126

معجزات القرآن — Page 106

" “ دیں گے اور مسلمان ان کی کمانوں، تیروں اور ترکشوں سے سات سال تک آگ جلاتے رہیں گئے۔209 اس روایت میں آسمان سے تیروں کے خون آلودہ ہو کر واپس آنے کا جو ذکر ہے اس میں ایک لطیف اشارہ ہے اور وہ یہ کہ یاجوج اپنے راکٹ آسمان پر چھوڑ کر اپنے اس دعوی میں اور بھی مضبوط ہو جائیں گے کہ کوئی خدا موجود نہیں ہے۔اور وہ پھر اعلان کریں گے کہ اے خدا کو ماننے والو ہم نے اپنے راکٹ چھوڑ کر آسمان کو دیکھ لیا ہے وہاں کوئی خدا موجود نہیں۔لہذا آج تمہارا موہوم خدا ہمارے ہاتھوں مقتول ہو چکا ہے۔اور پھر دوسری جہت سے تیروں کے خون آلودہ ہو کر واپس ہونے میں یہ اشارہ ہے کہ گو یا اللہ تعالیٰ انہی تیروں کو جو یا جوج اسے قتل کرنے کے ارادے سے چھوڑے گا خون آلودہ کر کے واپس کر دے گا اور یہ اس بات کی علامت ہوگی کہ اے یاجوج تو جن تیروں سے مجھے قتل کرنا چاہتا ہے میں انہی تیروں کو تیرے خون سے رنگین کروں گا۔اور بڑے بڑے پرندوں سے مراد علاوہ پرندوں کے ہوائی جہاز بھی ہو سکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے یا جوج ماجوج کے عبرتناک انجام پر روشنی ڈالنے کیلئے اصحاب فیل کے واقعہ کو بیان فرمایا ہے اور بتایا ہے کہ جس طرح اصحاب فیل کو طیر ابابیل نے تباہ کیا تھا اسی طرح آئندہ البیت الحرام کے دشمنوں کو اللہ تعالیٰ طیاروں یعنی ہوائی جہازوں کے حملوں سے تباہ کرے گا اور پھر جس طرح اصحاب فیل وبا سے تباہ ہو گئے تھے اسی طرح یہ لوگ بھی وباؤں وغیرہ سے تباہ کئے جائیں گے۔اب قرآن کریم کی پیشگوئیاں بھی ملاحظہ ہوں۔سورۃ انبیاء میں ارشاد ہے۔وَحَرُمُ عَلَى قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَهَا أَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُونَ حَتَّى إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَهُمْ مِّنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ وَاقْتَرَبَ الْوَعْدُ “ 210 الْحَقُّ فَإِذَا هِيَ شَاخِصَةُ أَبْصَارُ الَّذِينَ كَفَرُوا يُوَيْلَنَا قَدْ كُنَّا فِي غَفْلَةٍ منْ هَذَا بَلْ كُنَّا ظلِمِينَ ( انبياء 96 تا98) یعنی یہ ناممکن ہے کہ کوئی بستی جسے ہم ہلاک کر چکے ہیں (پھر اس جہان میں ) رجوع کرے حتی کہ جب یا جوج و ماجوج کو کھول دیا جائے گا اور وہ ہر نشیب وفراز سے دوڑ پڑیں گے اور وہ وعدہ جو اٹل ہے قریب آجائے گا تو اس وقت ناشکرے انسانوں کی آنکھیں گھل جائیں گی اور وہ بے اختیار کہہ اٹھیں گے کہ وائے مصیبت ! ہم تو اس حقیقت سے بالکل غافل تھے اور صرف یہی نہیں بلکہ ہم ظالم بھی تھے۔اس آیت میں لا یرجعون“ کے یہ معنے نہیں ہیں کہ یاجوج و ماجوج کے گھل جانے پر تمام ہلاک شدہ قو میں اپنے اجسام کے ساتھ دنیا میں دوبارہ زندہ ہو جائیں گی بلکہ مراد یہ ہے کہ جب یا جوج و ماجوج کا ظہور ہوگا۔تو وہ زمانہ رجعت بروزی کا زمانہ ہوگا یعنی ایک طرف تو تمام ہلاک شدہ قوموں کے گناہ دوبارہ اس دنیا میں اپنے انتہائی نقطہ تک پہنچ کر دوبارہ عود کر آئیں گے اور دوسری طرف ان ہلاک شدہ قوموں کے ناصح انبیاء کی روحانی طاقتیں انتہائی جوش میں آجائیں گی اور اس صورت حالات کا نتیجہ یہ ہوگا کہ پہلے اہل کفر پر ہمہ گیر تباہی آئے گی اور پھر اہل ایمان کو ہمہ گیر غلبہ نصیب ہوگا۔یہی وجہ ہے کہ اسی سورہ انبیاء کے شروع میں فرمایا اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ مُعْرِضُونَ (انبیاء:2) یعنی لوگوں کے حساب کتاب کا وقت سر پر آپہنچا ہے مگر وہ غفلت اور ناعاقبت اندیشی کے باعث بے رخی کا شکار ہیں۔پھر فرما يامَا آمَنَتْ قَبْلَهُمْ مِنْ قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا أَفَهُمْ يُؤْمِنُونَ ( انبياء:7) یعنی ان سے پہلے ہم نے جن بستیوں کو ہلاک کیا تھا وہ کفر پر اصرار کرنے اور انبیاء کی بات نہ ماننے کے باعث ہلاک کی گئی تھیں۔سواب یہ کیونکر ممکن ہے کہ یہ لوگ فوراً ایمان لے آئیں لہذا یہ غافل بھی جب تک عذاب میں مبتلا نہ کئے جائیں گے اس