معجزات القرآن — Page 7
“ 11 “ 12 اٹھایا اور اس کتاب کے حوالہ جات کمپوزنگ اور پروف ریڈنگ وغیرہ میں عزیزم نے خصوصی سعی کی ہے۔اور بڑی محنت شوق اور توجہ کے ساتھ اس کی تیاری اور تکمیل کی۔اللہ تعالیٰ ان کے علم و عمل میں برکت عطا فرمائے اور اپنے فضلوں سے نوازے۔آمین اس کتاب میں چھٹے باب کا اضافہ کیا گیا ہے۔اس میں عزیزم آصف احمد نے ابا جان کے کچھ ایسے مضامین کو شامل کیا ہے جو اس سے قبل شامل اشاعت نہ تھے یہ مضامین ”الفضل“ اور ”الفرقان“ میں شائع شدہ ہیں۔مکرم مولانا الیاس منیر صاحب حال جرمنی نے اپنی مصروفیات کے باوجود کتاب کا مسودہ ملاحظہ کیا اور اپنی قیمتی آراء سے نوازا۔اسی طرح مکرم مبشر احمد ظفر صاحب ، مکرم طارق بلوچ صاحب حال کیل جرمنی، مکرم نعمان ظفر صاحب مربی سلسلہ مکرم خلیق احمد صاحب ظفر ایم۔اے اور مکرم ادریس احمد چیمہ صاحب مربی سلسلہ کی معاونت بھی شامل حال رہی۔اللہ تعالیٰ ان معاونین کو دینی اور دنیوی حسنات عطا کرے۔اور اس کتاب کی اشاعت کے نیک اور بابرکت ثمرات ظاہر فرمائے۔آمین خاکسارا اپنی اہلیہ جو کہ جرمن احمدی ہیں اور الحمد للہ جماعتی خدمت کی بھی توفیق پا رہی ہیں اُن کے لئے اور اپنے بچوں کے لئے بھی خصوصی دعا کی درخواست کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ سب کو مقبول خدمت دین کی توفیق عطا فرمائے۔اور ہمیشہ احمدیت کے پر چم کو بلند سے بلند تر کرنے والے ہوں۔آمین خاکسار طاہر احمد ظفر (جرمنی) 27 مئی 2017ء پیش لفظ خاکسار کو از تالیفات الاستاذ ظفر محمد ظفر صاحب کا بالاستیعاب مطالعہ کرنے کا موقع ملا۔ماشاء اللہ بڑے اچھوتے رنگ میں آپ نے بعض قرآنی معجزات کو حساب الجُمَّل کی روشنی میں دلنشین انداز میں اجاگر کیا ہے۔فن جمّل کے ماہرین اور اس سے دلچسپی رکھنے والے کسی زمانہ میں کثرت سے موجود تھے۔اب تو خال خال ہی رہ گئے ہیں۔بالعموم شعراء کو اس پر خوب دسترس ہوا کرتی تھی۔اہم واقعات کی تاریخیں اس سے نکالا کرتے تھے۔اب بھی بعض یہ شوق فرمالیتے ہیں۔اس فن کے ماہرین نے اس کی ٹو اقسام بیان کی ہیں۔ان میں سے جو بالعموم مستعمل ہے وہ ابجد ادریس کے نام سے موسوم ہے۔باقی انواع میں سے ابجد آدم اس لحاظ سے نمایاں ہے کہ اس میں عربی حروف ہجاء کی اصل معروف ترتیب کو قائم رکھا گیا ہے۔ہر جزء میں آٹھ حروف ہیں۔وہ اجزاء یہ ہیں : ابِتُتُ يَحِخُدُ ذَرِزُسٌ شَصِضْطُ طَعِفُفْ قَكِلُمْ اور نُوهِي ان اجزاء کا پہلا حرف مفتوح ، دوسرا مکسور، تیسرا مضموم اور چوتھا ساکن ہے۔سوائے آخری جزء نُوهِئ کے۔یہ بھی اصل میں نَوِھی ہی تھا۔مگر واو کی مناسبت سے اس کے پہلے حرف ن کو پیش دی گئی اور ھ کے معا بعد ی کی وجہ سے ھ پر پیش کی بجائے زیر آگئی۔عربی حروف تہجی میں ھ پہلے ہے اور و بعد میں۔مگر یہاں اردو طرز پر وکوھ سے پہلے رکھا گیا ہے۔ابجد کی اقسام کی تفصیل کے لیے 15 مئی 1990 کے الفضل کا مطالعہ مفید ہوگا۔