معجزات القرآن

by Other Authors

Page 39 of 126

معجزات القرآن — Page 39

“ 75 ہوگئی ہے۔اس معجزانہ انکشاف سے پہلے حروف مقطعات کی مثال ایسے سنگ ہائے میل کی سی تھی کہ جن پر میلوں کے اعداد تو دیئے گئے ہوں لیکن یہ معلوم نہ ہو کہ ان کا ابتدائی نقطہ کیا ہے۔سو اس قسم کے سنگ ہائے میل سے کوئی مسافر فائدہ نہیں اُٹھا سکتا اور نہ ہی اس کی سمجھ میں یہ بات آسکتی ہے کہ وہ اپنے سفر کے کس مرحلہ سے گزر رہا ہے لیکن اب جبکہ ہمیں اس بات کا علم ہو گیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شمسی حساب سے بعد از آدم علیہ السلام 4598 میں مرفوع الی اللہ ہوئے اور قمری حساب سے 4740 میں تو اس کے بعد ہمارے لئے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں رہتا کہ ملت اسلامیہ کی عمر تئیس چوبیس سوسال کے مابین ہونی چاہئے۔یہ بات ہم تخمینا کہ رہے ہیں۔صحیح وہ بات ہوگی جو سورۃ فاتحہ اور حروف مقطعات بتائیں گے۔اس کے علاوہ اس انکشاف سے ایک ایسی معرفت حاصل ہوئی ہے جو حروف مقطعات کی حقیقت کو سمجھنے میں بڑی مدد دیتی ہے۔اور وہ حقیقت یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے سن شمسی اور قمری کے مابین پورا ایک سو بیالیس سال کا فرق ہے یعنی 4740 میں سے جب 4598 خارج کئے جائیں تو پورے 142 سال باقی رہ جاتے ہیں اور یہ وہ اعداد ہیں جو قرآن شریف کی شروع کی دوسورتوں میں یعنی بقرہ اور آل عمران میں حروف مقطعات کی صورت میں رکھ دیئے گئے ہیں۔ان دونوں سورتوں میں الحمد کے حروف آئے ہیں اور الحر حروف کے اعداد 71 ہیں اور جب ان دونوں سورتوں کے حروف کے اعداد جمع کئے جائیں تو پورے 142 ہوتے ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ قرآن شریف کا ایک کمال یہ بھی ہے کہ وہ حروف مقطعات کے ذریعے یا سورۃ فاتحہ کے کلمات کے ذریعے شمسی اور قمری حساب کے تفاوت کو ظاہر کرتا ہے۔سورۃ فاتحہ کے پیش نظر اس تفاوت کو لفظ حمد اور لفظ ملک ظاہر کرتے ہیں۔لفظ حمد کے اعداد 52 ہیں اور لفظ ملک کے اعداد پورے 90 ہیں۔“ 76 اس موقع پر یہ کیفیت آپ کو عجیب معلوم ہوگی لیکن آگے چل کر آپ کو معلوم ہوگا کہ قرآن شریف کا یہ پہلو نہایت حکیمانہ ہے۔حضرت بانی جماعت احمدیہ علیہ الصلوۃ والسلام کے اس انکشاف کے بعد میرے دل میں یہ جذ بہ پیدا ہوا کہ آپ کی ان تحریرات کا جائزہ لیا جائے جن کا تعلق سورۃ فاتحہ سے ہو۔سو اس سلسلہ میں میں نے آپ کی کتاب اعجاز اسیح “ (روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 71) کا مطالعہ کیا۔اس کتاب میں میں نے سب سے پہلے سورۃ فاتحہ کے متعلق جو الفاظ پائے وہ یہ تھے کہ اس سورۃ کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ یہ سورۃ ہمیں مسیح موعود کے زمانے کی خبر دیتی ہے اور پھر یہ بھی بتاتی ہے کہ دنیا کی عمر کتنی ہے؟ اس کے علاوہ ایک دوسری کتاب میں چند ایسے کلمات لکھے جنہوں نے حروفِ مقطعات کے مسئلے کو پوری طرح حل کر دیا اور وہ الفاظ یہ ہیں :۔” یہ ہمارے زمانے کی طرف ایما ہے اس وقت صِراطِ وو مُسْتَقِيمَ یہی ہے جو ہماری راہ ہے۔( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 397 جدید ایڈیشن) یہ کلمات دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ ہوسکتا ہے کہ حروف مقطعات کے اعداد جو 3385 ہیں اسلام کی دونوں نشاتوں اور نشاۃ ثانیہ کی مدت کے جامع ہوں۔اس پر میں نے الصِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کے اعداد کو جو 1012 ہیں۔اھدِنَا سے ماقبل کے اعداد کے متوازی رکھا پھر دیکھا کہ الحمد سے لے کر اھدِنَا تک کے کلمات کی مجموعی قیمت 2373 ہے اور اچھینا سے ماقبل کے اعداد کی قیمت 2312 ہے جب الصِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کے اعداد جو 1012 ہیں۔2312 کے اعداد کے متوازی واقع ہوئے تو قدرت خداوندی کا ایک عجیب نظارہ آنکھوں کے سامنے آیا اور وہ یہ کہ