معجزات القرآن

by Other Authors

Page 114 of 126

معجزات القرآن — Page 114

" “ لمئین اور انجیل کی بجائے المثانی سورتیں دی گئی ہیں اور مفصل کے ذریعہ سے مجھ کو فضیلت عطا کی گئی۔“ 225 (الاتقان اردو صفحہ 143) اس حدیث سے ظاہر ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک قرآن شریف کی تمام سورتیں ایک ترتیب سے چل رہی ہیں اور سات لمبی سورتوں سے مراد سورۃ التوبہ تک کی سورتیں ہیں اور المئین ( یعنی وہ سورتیں جن میں ایک سو کے قریب آیات ہیں ) ان سے مراد سورۃ یونس سے لے کر سورۃ الحجر تک کی سورتیں ہیں جن میں اسلام کی نشاۃ اولیٰ کا سیاسی دور دکھایا گیا ہے۔اسی بنا پر ان سورتوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے زبور قرار دیا ہے تا کہ اس طرف اشارہ ہو کہ اسلام کی نشاۃ اولیٰ بنی اسرائیل کے داؤدی دور کی مماثل ہے یعنی نشاۃ اولی میں جنگی سامان کا مدار لو ہے پر ہوگا اور نشاۃ ثانیہ سلیمانی دور کی مماثل ہے اور اس کے جنگی سامان کا دارو مدار ہوا پر ہوگا۔یعنی ہوائی جہازوں پر۔آج کل ہم عبوری دور سے گزررہے ہیں۔اس دور میں فی الحال لوہے کا ہتھیار اور ہوائی جہاز دونوں کام کر رہے ہیں۔سورۃ الحجر کے بعد کی سورتیں جو المثانی کہلاتی ہیں ان سے اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا آغاز ہوتا ہے جس کا واضح اعلان سورۃ مریم کرتی ہے۔حضرت علامہ جلال الدین سیوطی رحمتہ اللہ علیم نے بھی قرآن شریف کے مرتب ہونے کی ایک عقلی دلیل پیش کی ہے وہ یہ کہ حامیم والی سورتوں کو متصل رکھا گیا ہے لیکن اس کے برعکس مسجات کو متصل نہیں رکھا گیا بلکہ ان کے درمیان بعض ایسی سورتیں آگئی ہیں جن کا تسبیح سے آغاز نہیں ہوا۔آپ فرماتے ہیں کہ اگر قرآن شریف کی سورتوں کی ترتیب میں انسانی دماغ کا دخل ہوتا تو حوامیم کی طرح مسجات کو بھی احم سے شروع ہونے والی سورتیں “ متصل رکھا جاتا۔226 خاکسار اس وقت اس مختصر مضمون میں انہی مسجات کے متعلق بتانا چاہتا ہے کہ ان کی ترتیبی کیفیت کیا ہے اور ان سورتوں میں جو سورتیں بغیر تسبیح کے آئی ہیں اس میں کیا حکمت ہے ؟ جو سورتیں مسجات کہلاتی ہیں وہ اور ان کے درمیان جو سورتیں بغیر تسبیح کے آئی ہیں وہ حسب ذیل ہیں: 1۔الحدید۔اس میں تسبیح پائی جاتی ہے۔2۔المجادلہ۔اس میں تسبیح نہیں ہے۔3- الحشر۔اس میں تسبیح پائی جاتی ہے۔4- الممتحنہ۔اس میں بھی تسبیح نہیں پائی جاتی۔5۔الصف۔اس میں تسبیح پائی جاتی ہے۔6- الجمعہ۔اس میں بھی تسبیح پائی جاتی ہے۔7 - المنافقون۔یہ بھی تسبیح سے خالی ہے۔8۔التغابن۔اس میں تسبیح پائی جاتی ہے۔ان سورتوں میں سے جن میں تسبیح پائی جاتی ہے ان میں کہیں تو ما في السموت وَالْأَرْضِ کے الفاظ آئے ہیں اور کہیں مَا فِي السَّمواتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ اور یہ ظاہر ہے کہ جن سورتوں میں حروف کو زیادہ کیا گیا ہے وہ تسبیح کی زیادتی پر دلالت کرتی ہیں اور جہاں پر حروف ترک کر دیئے گئے ہیں وہاں تسبیح کی قلت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔اب سب سے پہلے سورۃ الحدید کو لیجئے۔اس میں تسبیح کے الفاظ یوں آئے ہیں۔سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ - وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيم ان الفاظ کو دیکھئے۔ان میں لفظ الارض “ سے حرف ما اور حرف ”فی“ کو حذف 66