معجزات القرآن — Page 87
172 171 قرآن کریم میں اس قوم کی دو بیماریوں کی نشاندہی کی گئی ہے اول یہ کہ ہند وقوم احساس برتری کی بیماری میں مبتلا ہے جس کے نتیجہ میں وہ اپنے آپ کو ہر قوم سے بہتر اور برتر سمجھتی ہے اس بیماری کی قرآن کریم میں بَصُرْتُ بِمَا لَهُ يَنْصُرُوا بِهِ (طه:97) ترجمہ: اس نے کہا کہ میں نے وہ بات جان لی تھی جسے یہ نہیں پاسکے۔کے الفاظ میں نشاندہی کی گئی ہے دوسری بیماری چھوت چھات کی ہے جس کی نشاندہی قرآن کریم میں لا مساس“ کے الفاظ سے کی گئی ہے۔پھر فرمایا: قَالُوا لَن نَّبْرَحَ عَلَيْهِ عَرِفِيْنَ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَيْنَا مُوسَى 66 (92:ab) ترجمہ : انہوں نے کہا ہم اس کے سامنے ضرور بیٹھے رہیں گے۔یہاں تک کہ موسیٰ ہماری طرف لوٹ آئے۔یعنی جب تک موسیٰ واپس نہ آئیں ہم بچھڑے کی پرستش سے باز نہیں آئیں گے یہ الفاظ در اصل ایک عظیم الشان پیشگوئی پر مبنی ہیں اور وہ یہ کہ ہندو قوم سامری کی طرح گوسالے کی پرستش کرتی رہے گی لیکن جب حضرت موسیٰ کے بروز یعنی حضرت امام مہدی دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کی تشریف آوری کے بعد یہ قوم ان کی تعلیمات سے متاثر ہو کر بچھڑے کی پوجا ترک کر دے گی اور بالآ خر تو حید کی قائل ہو جائے گی اس پیشگوئی کی صداقت کے آثار ابھی سے ظاہر ہونے شروع ہو گئے ہیں ہندوستان کی قومی اسمبلی میں بار بار یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ جب ہمارے باپ دادے گائے کھاتے تھے تو ہم کیوں نہ کھائیں اور اس کی تائید میں بہت سے حوالہ جات پیش کئے گئے ہیں ( ہندوؤں کا اسلام کی طرف رجوع کرنا ) کہ واقعی ان کے آباؤ اجداد گائے کا گوشت کھاتے تھے سو یہ تاریخ ہند میں پہلا موقع ہے کہ ہزاروں ا تفصیل کیلئے دیکھیں الفضل 3۔اپریل 1932ء ، الفضل 25 مئی 1939ء، نیز الفضل 23۔اکتوبر 1946ء سال کے بعد جب موسیٰ بصورت رجعت بروزی تشریف لے آئے ہیں تو یہ قوم بچھڑے کے احترام کو خیر باد کہہ کر اس کا گوشت کھانے پر آمادہ ہو رہی ہے اور وہ دن دور نہیں جبکہ ہندوستان میں گائے کی قربانی ممنوع نہ رہے گی پھر فرمایا: وَيَسْتَلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنْسِفُهَا رَبِّ نَسْفًا“ (106:b) ترجمہ: اور وہ تجھ سے پہاڑوں کے متعلق سوال کرتے ہیں۔تو کہہ دے کہ انہیں میرا رب ریزہ ریزہ کر دے گا۔ان الفاظ میں دراصل یا جوج ماجوج اور دیگر دشمنان اسلام قوموں کی تباہی اور بر بادی کا ذکر کیا گیا ہے۔چنانچہ بائبل میں لکھا ہے: ” ہر ایک نشیب اونچا کیا جائے اور ہر ایک پہاڑ اور ٹیلہ پست کیا جائے اور ہر ایک ٹیڑھی چیز سیدھی اور ہر ایک ناہموار جگہ ہموار کی جائے۔اور خداوند کا جلال آشکارا ہو گا اور تمام بشر اس کو دیکھے گا۔کیونکہ خداوند نے اپنے منہ سے فرمایا ہے۔“ (یسعیاہ باب 40 آیت 4 تا5) دیکھو میرا خادم جس کو میں سنبھالتا ہوں۔میرا برگزیدہ جس سے میرا دل خوش ہے۔میں نے اپنی رُوح اُس پر ڈالی۔“ وو (یسعیاہ باب 42 آیت 1 ) ان الفاظ سے ظاہر ہے کہ پہاڑوں کے اڑا دینے سے مراد صرف ظاہری کیفیت نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ ہی اسلام کے راستے میں جور کا وٹیں ہیں ان کو اٹھا دینا بھی مراد ہے پھر فرمایا خَشَعَتِ الْأَصْوَاتُ لِلرَّحْمَنِ (طه: 109) ترجمہ: اور رحمن کے احترام میں آواز میں نیچی ہو جائیں گی۔یہ وہی اصوات ہیں جن کا ذکر سورۃ بنی اسرائیل میں یوں آیا ہے۔