معجزات القرآن — Page 82
”“ تفسير سورة طه 161 حروف طہ کے اعداد 14 ہیں اور یہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی صدی ہے اس سورۃ کا ملت اسلامیہ میں وہی مقام ہے جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نبوی زندگی کے چودھویں سال میں مکہ سے ہجرت فرما کر یہود نامسعود کے شہر یثرب میں پہنچ گئے تھے گویا حضرت موسی غضب ناک ہو کر اس قوم کی سزا دہی کے لئے تشریف لے آئے تھے سو حضرت بانی سلسلہ کا مقام اس چودھویں صدی میں حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بروز کی حیثیت رکھتا ہے۔چنانچہ قرآن کریم نے اس طرف اشارہ فرمایا۔جیسا کہ فرمایا۔وَلَقَد نَصَرَكُمُ اللهُ بِبَدْرٍ وَانْتُمْ أَذِلَّةٌ ( آل عمران : 124) یعنی خدا نے بدر میں اس وقت مدد کی جب تم کمزور تھے۔قرآن ذوالوجوہ ہے جیسا کہ جلیل القدر علما اس حقیقت سے باخبر ہیں۔سواس مقام پر اس آیت کے دوسرے معنے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ مؤمنین کی مسیح موعود کے ظہور سے اس وقت مدد فرمائے گا جبکہ اتنی صدیاں گزرچکی ہوں گی کہ جتنے بدر کے ایام ہیں جبکہ مؤمن ان دنوں میں بے بس اور بے کس ہوں گے۔نیز حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے فرما یا۔چودہ کے عددکو روحانی تغیر سے بڑی مناسبت ہے۔چودھویں صدی کا چاند کمل ہوتا ہے۔اسی کی طرف اللہ تعالیٰ نے وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللهُ بِبَدْرٍ وَأَنْتُمْ أَذِلَّةٌ ( آل عمران : 124) میں اشارہ کیا ہے یعنی ایک بدر تو وہ تھا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مخالفوں پر فتح پائی اس وقت بھی آپ کی جماعت قلیل تھی اور ایک بدر یہ ہے۔لدو 66 بدر میں چودھویں صدی کی طرف اشارہ ہے اس وقت بھی اسلام کی حالت ذلة “ “ 162 کی ہو رہی ہے سو ان سارے وعدوں کے موافق اللہ تعالیٰ نے مجھے مبعوث کیا ہے۔“ ( ملفوظات جلد دوم صفحہ 363 جدید ایڈیشن) ایسے ہی علامہ موسیٰ جار اللہ اپنی کتاب " ترتیب الٹور صفحہ 88 “ میں فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ طہ کو سورۃ مریم کے بعد اس لئے رکھا کہ جس نبی کی آمد کی ابن مریم نے خبر دی تھی اس نبی کی سورۃ اس کی والدہ کی سورۃ کے ساتھ رکھی جائے گویا سورۃ طہ علامہ موسیٰ جار اللہ کے نزدیک اس نبی کی سورۃ ہے جس کے متعلق حضرت عیسی نے اسمه احمد “ کے الفاظ میں بشارت دی تھی۔سوسورۃ طہ میں محمدیت کے ضمن میں احمدی دور کا آغاز ہوتا ہے۔اب ہم ذیل میں اس سورت کی وہ آیت پیش کرتے ہیں جن سے ظاہر ہوگا کہ یہ سورۃ حضرت مسیح موعود سے تعلق رکھتی ہے اور اس کا زمانہ چودھویں صدی ہے اس سورت کے شروع میں فرما یا طه O مَا أَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لِتَشْقَى (3۔2:1b) ان الفاظ میں ایک تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بشارت دی گئی ہے کہ آپ کو روحانی بیٹا ملے گا۔دوسرے خود حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کو بشارت دی گئی ہے کہ آپ کو بھی روحانی بیٹا ملے گا۔اس کا ثبوت یہ ہے کہ حضرت زکریا نے جب ایک بیٹے کی موہبت کے لئے دعا کی تو ساتھ ہی کہا کہ لمْ أَكُنُ بِدُعَابِكَ رَبِّ شَقِيًّا (مريم:5) یعنی اے میرے رب میں تجھے پکارنے کے بعد کبھی نامراد نہیں رہا اور ایسے ہی حضرت ابراہیم نے دعا کی تو ساتھ ہی کہا عَسَى أَلَّا أَكُونَ بِدُعَاءِ رَبِّي شَقِيًّا ( مریم :49) یعنی مجھے امید ہے کہ میں اپنے رب کو پکارنے کے بعد نامراد نہیں رہوں گا سو