معجزات القرآن — Page 73
“ 143 ہے جو آگے سورۃ طہ کی آخری آیت میں مَنْ أَصْحَبُ الصِّرَاطِ السَّوِيِّ وَمَنِ اهتدی کے الفاظ میں مذکور ہے۔سو ان حروف مقطعات سے مراد ذکر و موهبت پیچی و عیسی و صاحب القِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کے الفاظ ہیں۔یا بالفاظ دیگر ذکر المهديين والعباد الصالحين وأصحاب الصراط المستقیم ہے۔اس سورۃ کی ہر آیت گیارھویں صدی سے لے کر تیرھویں صدی تک کے اُن جملہ کوائف کی آئینہ دار ہے جن سے ملتِ اسلامیہ دو چار رہی۔اس سورۃ کی حروف مقطعات کے بعد پہلی آیت ذكرُ رَحمتِ رَبِّكَ عَبْدَهُ زَكَرِيًّا ہے۔یہاں لفظ زکریا سے مراد ان کے مثیل حضرت مجدد الف ثانی بھی ہیں کیونکہ حضرت مجدد الف ثانی کو وہی الہامات ہوئے جو حضرت زکریا علیہ السلام کے ہیں۔آپ کو الہام ہوا: إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَامِ نِ اسْمُهُ يَحْيى چنانچہ آپ کے ہاں لڑکا پیدا ہوا اور آپ نے اس کا نام بیخی رکھا۔پھر آپ کو جب آپ کی لڑکی ام کلثوم نزع کی حالت میں تھی ، الہام ہوا ” ہم نے آپ کی لڑکی اُم کلثوم کا عقد اپنے رسول بی حصور علیہ السلام سے کیا۔(حدیقہ محمودیہ صفحہ 102 ) آپ کے صاحبزادے خواجہ محمد معصوم کے گھر جب ان کے تیسرے صاحبزادے محمد عبید اللہ پیدا ہوئے تو خواجہ محمد معصوم کو الہام ہوا۔سَلَامٌ عَلَيْهِ يَوْمَ وُلِدَ وَيَوْمَ يَمُوتُ وَيَوْم يُبْعَثُ حَيًّا - حالات مشائخ نقشبندیہ مجددیہ صفحہ 355) قرآن کریم میں یہ الفاظ حضرت زکریا کے بیٹے حضرت یحیی کے متعلق آئے ہیں۔لہذا شہادت خداوندی یہی ہے کہ یہاں حضرت زکریا کے نام کے پردے میں گیارھویں صدی کے مجدد حضرت احمد سر ہندی کا ذکر کیا جا رہا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ حضرت احمد سر ہندی ارہاص بنائے احمدیت کی خشت اول ہیں۔چنانچہ آپ بھی اپنی کتاب مبد او معاد میں فرماتے ہیں۔“ 144 " وَأَقُولُ قَوْلًا عَجَبًا لَمْ يَسْمَعُهُ أَحَدٌ وَمَا أَخْبَرَبِهِ مُخْبِرُ بِإِعْلَامِ الله سُبْحَانَهُ وَالْهَامِهِ تَعَالَى إِيَّايَ بِفَضْلِهِ وَ كَرَمه ، آنکه بعد از هزار و چند سال از زمان رحلت آن سرور علیه وعلی الہ الصلواۃ والتحیات زمانے می آید، که حقیقت محمدی از مقام خود عروج فرماید و به مقام حقیقت کعبہ متحد گردد۔ایس زمان حقیقت محمدی حقیقت احمدی نام یا بد (مبد أو معاد صفحه 79) ترجمہ: میں ایک عجیب بات کہتا ہوں جو کبھی کسی نے سنی نہیں۔اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل و کرم کے ذریعہ مجھے اس کا علم بخشا ہے اور وہ بات یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے ایک ہزار اور چند سال بعد ایک ایسا زمانہ آ رہا ہے کہ حقیقت محمدیہ اپنے مقام سے عروج فرما کر حقیقت کعبہ سے متحد ہو جائے گی اور اس وقت حقیقت محمدی کو حقیقت احمدی کا نام دیا جائے گا۔( مبد أو معاد صفحه 205 ، 206 ایڈیشن 1984ء) سو انہیں حضرت بانی سلسلہ احمدیہ سے وہی نسبت ہے جو حضرت ذکریا کو حضرت عیسی علیہ السلام سے تھی۔حضرت مجددالف ثانی کے سوانح میں حضرت عبد القادر جیلانی کا ایک کشف مندرج ہے جس میں لکھا ہے کہ ایک دن حضرت شیخ سید عبد القادر جیلانی کسی جنگل میں مراقبہ فرمائے بیٹھے تھے۔ناگہاں آسمان سے ایک عظیم نور ظاہر ہوا جس سے تمام عالم نورانی ہو گیا۔یہ نور ساعةً فساعةً بڑھتا اور روشن ہوتا گیا اس سے اُمت مرحومہ کے اولین و آخرین اولیا نے روشنی حاصل کی۔حضرت نے تامل فرمایا کہ اس مثال میں کس صاحب کمال کا وجود با وجود مشاہدہ کرایا گیا ہے۔القا ہوا کہ اس نور کا صاحب تمام اُمت کے اولیا اولین و آخرین سے افضل تر ہے وہ پانچ سوسال بعد ظہورفرما ہوکر ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی تجدید کرے گا۔جو اس کی صحبت سے