معجزات القرآن — Page 72
”“ کا ہوا۔141 نبوت کے دسویں سال کا نام حضور" نے عام الحزن رکھا یعنی غم واندوہ کا سال۔اس سال سے مصیبتیں بڑھتی گئیں اور نبوت کے چودھویں سال میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ چھوڑ کر مدینہ جانا پڑا۔اس کے مقابل ملت کی چودھویں صدی میں خلافت قریش سے نکل کر ایک غیر قوم کی طرف منتقل ہوگئی اور محمدیت کی جگہ احمدیت نے لے لی۔اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے سورۃ محمد کے آخر میں فرمایا: وَإِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُونُوا أَمْثَالَكُمْ (محمد: 39) یعنی اسے قریش اور اے عرب قوم ! اگر تم اسلام سے روکشی اختیار کر لو گے تو پھر اللہ تعالیٰ ایک اور قوم کو تمہارے بدلے لے آئے گا اور پھر وہ تمہاری طرح نہیں ہوں گے۔اب ہم سورۃ مریم اور سورۃ طہ کی ایک مختصر سی تفسیر پیش کرتے ہیں جس سے ظاہر ہوگا کہ قرآن شریف کے بیانات صرف قصے نہیں ہیں بلکہ پیشگوئیاں بھی ہیں۔“ تفسیر سورة مريم (چند آیات) ز درگاه خدا مردے بصد اعزاز مے ے آیا ہے 142 مبارک بادت اے مریم کہ عیسی باز می آید الہام حضرت بانی سلسلہ احمدیہ تذکرہ صفحہ 684 طبع چہارم) سورۃ مریم کا ملت اسلامیہ میں وہی مقام ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا غار 66 سے نکل کر مدینہ کی طرف روانہ ہونے کا تھا۔اس کے حروف مقطعات کھیعص“ 66 ہیں۔ان حروف کی معنوی کیفیت خود اسی سورۃ کے الفاظ سے ظاہر ہوتی ہے۔اس سورۃ کا ہر رکوع لفظ ”ذکر“ یا اُذْكُر “ سے شروع ہوتا ہے۔لہذا حرف ”کاس اذكر “ سے ماخوذ ہے۔پھر اس سورۃ میں حضرت زکریا کو بیٹی کی موہبت کی بشارت دی گئی ہے اور حضرت مریم کو حضرت عیسی کی موہبت کی اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حضرت اسحق اور حضرت یعقوب علیہ السلام کی اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حضرت ہارون علیہ السلام کی موہبت کی بشارت دی گئی ہے۔اور پھر اس سورۃ میں جن انبیاء کا ذکر کیا گیا ہے ان کے متعلق کہا گیا ہے۔أُولَئِكَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِم نیز فرمایا هَدَيْنَا وَاجْتَبَيْنَا یعنی یہ سب لوگ ، منعم مہدی اور مجتبی ہیں۔لہذا حرف “ اسی لفظ موہبت اور ہدایت سے ماخوذ ہے اور حرف ی جمع کے لئے ہے اور حرف ع انعام سے اور حرف ”ص‘ الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ سے ماخوذ ا ترجمہ : خدا کی درگاہ سے ایک فرد بڑے اعزاز کے ساتھ آتا ہے۔6699 وو اے مریم تجھے مبارک ہو کہ عیسی دوبارہ آتا ہے۔