معجزات القرآن — Page 61
120 119 آئی اور جب ہم نے تیسری اکائی کو نشاۃ اولی کے ساتھ ملایا تو نشاۃ اولیٰ کی عمر 1303 ہجری کی صورت میں ہمارے سامنے آئی اور حضرت بانی سلسلہ احمدیہ اسم احمد کے مصداق ہو گئے اور نشاۃ ثانیہ کی عمر جو 1071 سال تھی اور جسے لفظ غلام کے حروف ظاہر کرتے تھے کم ہوکر 1070 سال رہ گئی۔گو یا لفظ غلام سے حرف نکل کر نشاۃ اولی کے ساتھ جاملا اور لفظ غلام سے جب ا‘ غائب ہو گیا تو پھر حرف ”م“ حرف ”غ “ اور حرف ل باقی رہ گئے اور اس طرح لفظ مغل اپنے آپ ہمارے سامنے آگیا۔اسی بنا پر ہم نے ملت اسلامیہ کی مجموعی عمر کو احمد غُلَامُكَ اسمه احمد مغل کے حروف میں ظاہر کیا ہے۔ان حروف میں غُلَامُكَ اسمه احمد کے اعداد 1250 ہیں جو بانی سلسلہ احمدیہ کے سن پیدائش کو ظاہر کرتے ہیں اور جب ان کلمات کے شروع میں لفظ احمد بڑھا دیا گیا تو یہ اعداد 1303 تک آپہنچے اور جب آخر میں لفظ مغل“ رکھا گیا تو ملتِ اسلامیہ کی مجموعی عمر 2373 سال کی صورت میں سامنے آگئی۔لہذا ہمارے حساب میں کسی بے جا تصرف یا تکلف کا کوئی دخل نہیں بلکہ سورۃ فاتحہ اور حروف مقطعات کی روشنی میں اپنے آپ یہ حقائق ہمارے سامنے آتے ہیں۔اب آخری بات جو حروف مقطعات کے متعلق کہنے کے لائق ہے وہ یہ ہے کہ یہ حروف ، قرآن شریف کی بعض سورتوں کا کسی نہ کسی زمانے سے خصوصی لگاؤ دکھاتے ہیں۔سواس کی تفصیل ملاحظہ ہو۔اول : سورۃ یونس سے ماقبل کی سورتیں دوطرفہ حیثیت رکھتی ہیں۔ان کا تعلق خلافتِ محمدیہ سے ماقبل کے زمانے سے بھی ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصی زندگی سے بھی۔دوم : سورۃ یونس سے حجر تک کا زمانہ جو 1426 سال ہے یہ اسلام کی نشاۃ اولیٰ کا آئینہ دار ہے اور یہ سورتیں متن کی حیثیت رکھتی ہیں۔سورۃ مریم اور طہ ان سورتوں کے مقابل ایک حاشیہ کی حیثیت رکھتی ہیں جو 1426 سال میں سے 1000 سال کو الگ کر کے گیارھویں، بارھویں اور تیرھویں صدی کو محمدیت اور احمدیت کے مابین ایک عبوری دور کو ظاہر کرتی ہیں اور یہ اسلام کی نشاۃ اولی کے انحطاط کا دور ہے۔آگے سورۃ طہ سے لے کر سورۃ قصص تک کی تمام سورتیں 1587 ہجری تک کے زمانے سے خصوصی لگاؤ رکھتی ہیں۔یہ سورتیں اسلام کی نشاۃ ثانیہ کی تدریجی ترقی کی آئینہ دار ہیں۔ان سورتوں میں ایک مثیل موسیٰ کو خلفاء فرعون سے کشاکش کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ سولھویں صدی میں اسلام کی نشاۃ ثانیہ اپنے عروج کے ابتدائی نقطہ تک جاپہنچے گی اور ظالم قوموں سے نجات پاچکی ہوگی۔سوم : سورۃ عنکبوت کا زمانہ 1213 ہجری سے شروع ہوتا ہے۔یہاں سے ابواب فتن کا افتتاح ہوتا ہے اور اسی سورۃ میں اَلنَّشْأَةَ الْأَخِرة کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔آگے سورۃ روم میں یہی فتنے ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ كى صورت اختیار کر لیتے ہیں۔یہی مسیح موعود کا زمانہ ہے۔اس سورۃ کا زمانہ 1287 سے لے کر 1355 تک ہے۔آگے سورۃ لقمان ہے اس کا زمانہ 1355 سے لے کر 1426 تک ہے۔اس کے بعد سورۃ السجدة “ سے لے کر سورۃ ”ن“ تک 947 سال ہیں۔یہ سورتیں مسلسل چلتی ہیں۔اور اپنے اپنے حروف کے مطابق اپنے اپنے زمانے کو ظاہر کرتی ہیں۔یہ عجیب بات ہے کہ الم سجدۃ پھر ٹیس اور پھر حرف ”ق“ کے اعداد اگر اکٹھے کئے جائیں تو ان تینوں سورتوں کے اعداد پورے 231 بنتے ہیں جو حروف الر کے اعداد ہیں۔گویا سورۃ حجر کے حروف الر کے بعد پھر الڑکی قیمت رکھنے والے حروف آگئے اور یہ اس لئے کہ با ہم تسلسل نظر آئے۔اس موقع پر یہ