معجزات القرآن

by Other Authors

Page 60 of 126

معجزات القرآن — Page 60

" “ 117 لے کر مسیح محمدی تک کا زمانہ دیکھنا ہو تو پھر سورۃ بقرہ سے لے کر سورۃ مریم تک کے حروف مقطعات شمار کریں۔اس طرح کوئی سورۃ حاشیہ کی صورت اختیار نہیں کرتی لیکن پہلے طریق میں 303 کے اعداد اور 1426 کے اعداد میں سے 123 کے اعداد جو 1303 کے بعد باقی رہ جاتے ہیں اور سورۃ مریم کے اعداد جو 195 ہیں حاشیہ کی صورت اختیار کر لیتے ہیں اور ان کی مجموعی قیمت جو 621 ہے، شمار میں نہیں آتی۔اور یہ طریق وہ ہے جو حروف مقطعات نے ہمیں سمجھایا ہے۔اس کی بھی تفصیل ملاحظہ ہو:۔سورۃ یونس سے خلافت محمدیہ کا آغاز ہوتا ہے۔یہاں سے آکر آپ سورۃ ابراہیم تک کے اعداد کو شمار کریں تو 1195 کے اعداد آپ کے سامنے آجائیں گے۔گویا 1000 سال کے بعد 195 کے اعداد نمایاں ہو کر ہمارے سامنے آجاتے ہیں اور یہ اعدا دسورۃ مریم کے حروف مقطعات کے اعداد ہیں۔جس کے معنی یہ ہیں کہ گیارھویں صدی سے سورۃ مریم کے مضامین کا آغاز ہو رہا ہے یہی وجہ ہے کہ سورۃ مریم کی پہلی آیت میں ذِكْرُ رَحْمَتِ رَبِّكَ عَبْدَهُ زَکریا کے الفاظ آئے ہیں اور پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت مجدد الف ثانی کو اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلامِ اسمه لیخیلی کی بشارت دے کر آپ کو حضرت زکریا کا مثیل ٹھہرا دیا اور اس طریق سے ہم پر یہ حقیقت واضح فرما دی کہ گیارھویں صدی سے سورۃ مریم کا مضمون شروع ہوتا ہے اور پھر جب سورۃ مریم کے ان حروف کو جو حرف ص“ سے پہلے ہیں اور جن کی قیمت 105 ہے 1195 میں جمع کیا جائے تو پورے 1300 سال ہمارے سامنے آ جاتے ہیں اور حرف ص ایک خط کی صورت میں 1300 سال میں سے 90 کے عدد کو اور بقیہ 1210 کے عدد کو الگ الگ کر کے دکھا دیتا ہے اور یہ وہی بات ہے جو سورۃ فاتحہ میں لفظ غیر کے بعد حرف ” ص“ نے ہمارے سامنے پیش کی تھی اور بتایا تھا کہ 66 66 “ 118 1210 کے بعد جب 90 سال گزریں گے تو آگے امام مہدی علیہ السلام کا زمانہ شروع ہو جائے گا جسے اھدنا کے کلمات ہمارے سامنے لے آتے ہیں۔سورۃ فاتحہ میں اللہ تعالیٰ نے ملتِ اسلامیہ کی عمر کو دوحصوں میں تقسیم کر دیا تھا۔پہلے حصے کی عمر 1300 سال دکھائی تھی جبکہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی عمر 50 سال تھی اور دوسرے حصے کی عمر 1073 سال دکھائی تھی لیکن حروف مقطعات میں پہلے حصے کی عمر 1303 سال دکھائی جبکہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی عمر لفظ احمد کے اعداد کے مطابق 53 سال ہوگئی۔یہ طریق اختیار کر کے اللہ تعالیٰ نے ہمیں دو باتیں سمجھا ئیں۔اول یہ کہ عیسی علیہ السلام نے اپنے جس مثیل کی آمد کی بشارت اسمه احمد کے الفاظ میں دی تھی وہ یہی مسیح ہے جو 1303 ہجری میں اسمه احمد کا مصداق ہوا۔سو یہ 1303 کا زمانہ احمد سے احمد تک کا زمانہ ہے یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی 53 سال کی عمر سے لے کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی 53 سال کی عمر تک۔دوسری بات جو اللہ تعالیٰ نے سمجھائی وہ یہ ہے کہ 1073 کے اعداد میں جو تین اکائیاں ہیں وہ نشاۃ اولی کا بھی حصہ بن سکتی ہیں اور نشاۃ ثانیہ کا بھی۔گویا یہ تین اکائیاں اختیاری ہیں ہم انہیں دونوں طرف ملانے کے مجاز ہیں۔اسی بناء پر ہم نے دو اکائیاں جب نشاۃ اولیٰ کے ساتھ ملائیں تو غلام۔ابوبکر کا زمانہ جو عدد ا 1302 ہے ہمارے سامنے آ گیا۔اس وقت حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی عمر 52 سال تھی جو لفظ حمد کے اعداد ہیں اور جب نشاۃ ثانیہ کی 1073 سال کی عمر میں سے دوا کائیاں کم ہو گئیں تو باقی 1071 سال رہ گئے جو کہ لفظ غلام کے اعداد ہیں اور اس طرح ملت اسلامیہ کی مجموعی عمر غلام + ابوبکر = 1302 ، غلام = 1071 کی صورت میں ہمارے سامنے