معجزات القرآن

by Other Authors

Page 49 of 126

معجزات القرآن — Page 49

”“ 95 یا غفور کے اعداد پورے 1297 ہیں اور یہ اعداد اُس پیشگوئی کے مصداق ہیں جو بحار الانوار میں درج ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امام مہدی غار انطاکیہ سے ظاہر ہوگا۔غار انطاکیہ 1201+96 کے اعداد بھی پورے 1297 ہیں۔چھٹی بات جو قابل ذکر ہے وہ یہ ہے کہ صفات اربعہ کو اِهْدِنَا الصِّراط الْمُسْتَقِيمَ کے کلمات سے متصل کر دیا گیا ہے اور اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کے اعداد کو متوازی حیثیت دے دی گئی ہے۔اس طریق کے اختیار کرنے سے اللہ تعالیٰ نے مُلِكِ يَوْمِ الدّین اِهْدِنَا کے کلمات کو جمع کر دیا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ امام مہدی علیہ السلام صفت مالکیت کے مظہر ہیں۔چنانچہ حضرت بانی جماعت احمدیہ علیہ السلام اپنی کتاب اعجاز اسیح میں فرماتے ہیں:۔وَبَقِيَتِ الصَّفَةُ الرَّابِعَةُ مِنْ هَذِهِ الصَّفَاتِ، أَعْنِي التَّجَلَ الَّذِي يَظْهَرُ فِي حُلَّةِ مَلِكٍ أَوْ مَالِكٍ فِي يَوْمِ الدِّيْنِ لِلْمَجَازَاتِ۔فَجَعَلَهُ لِلْمَسِيحَ الْمَوْعُوْدِ كَالْمُعْجِزَات، وَجَعَلَهُ حَكَماً وَمَظْهَراً لِلْحُكُومَةِ السَّمَاوِيَّةِ بِتَأْبِيدٍ مِنَ الْغَيْبِ وَالْآيَاتِ۔وَسَتَعْلَمُ عِنْدَ تَفْسِيرِ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ هَذِهِ الْحَقِيْبَةَ۔وَمَا قُلْتُ مِنْ عِنْدِ نَفْسِي بَلْ أُعْطِيْتُ مِنْ لَّدُنْ رَبِّي هَذِهِ النِّكَاتِ الثَّقِيْقَةِ۔وَمَنْ تَدَبَّرَهَا حَقٌّ التَّدَبُرِ وَفَكَّرَ فِي هَذِهِ الآيَاتِ إِعْلَمُ أَنَّ اللَّهَ أَخْبَرَ فِيْهَا وَعَنِ الْمَسِيحِ وَعِنْ زَمَنِهِ الَّذِي هُوَ زَمَنُ الْبَرَكَاتِ! اعجاز امسیح۔روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 148-149) ترجمہ: اب ان صفات اربعہ میں سے چوتھی صفت جو مالک یوم الدین ہے باقی رہ گئی ہے سو اُس کی روح یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے زمانے میں ایک مالک یا ملک کے “ 96 96 پیرائے میں جلوہ گر ہوگا اور یہ وقت جزا سزا کا وقت ہوگا اور مسیح موعود کیلئے بطور معجزات کے ہو گا۔آپ اُس وقت اللہ تعالیٰ کی اس صفت مالکیت کے مظہر ہوں گے اور حَكَمُ بن کر اپنے فیصلے صادر فرمائیں گے۔اللہ تعالیٰ تائید غیبیہ سے اور نشانات سماویہ سے آپ کی مدد فرمائے گا۔جب ہم انعمت علیہم کی تفسیر کریں گے تو یہ حقیقت اچھی طرف منکشف ہو جائے گی۔میں اپنے پاس سے کوئی بات نہیں کہہ رہا بلکہ یہ نکاتِ دقیقہ اللہ تعالیٰ نے مجھے دیئے ہیں۔جو شخص ان کلمات میں پورے طور پر تد بر کرے گا اُسے معلوم ہو جائے گا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کلمات میں مسیح موعود کی اور اُس کے با برکت زمانے کی خبر دی ہے۔اس کے علاوہ آپ فرماتے ہیں:۔وو أَنَّ اسْمَ أَحْمَدَ لَا تَتَجَلَّى بِتَحِلَّى تَامٍ فِي أَحَدٍ مِّنَ الْوَارِثِينَ، إِلَّا فِي الْمَسِيحِ الْمَوْعُوْدِ الَّذِي يَأْتِي اللَّهَ بِهِ عِنْدَ طلُوعِ يَوْمِ الدِّينِ 66 اعجاز امسیح۔روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 121) یعنی اسم احمد کی تجلی کا پورا وارث صرف مسیح موعود ہوگا جسے اللہ تعالیٰ یوم الدین کے مطلوع پر پیدا کرے گا۔سورۃ فاتحہ میں یوم الدین کا مطلع لفظ مالک ہے۔خدا تعالیٰ کی شان دیکھیں کہ آپ کی پیدائش اسی لفظ کے زمانے میں ہوئی۔آپ 1250ھ میں پیدا ہوئے۔الحمد سے لے کر الرحیم تک کے کلمات کے اعداد 1234 بنتے ہیں۔الحمد لله 179 ، رب العالمين - 436، الرحمن 330 ، الرحيم - 289 گویا آپ کی پیدائش لفظ مالک کے زمانے میں ہوئی ہے۔اس لفظ کے اعداد 91 ہیں اور حساب 1234 سے بڑھ کر 1325 تک بنتا ہے اور 1325 وہ سن ہے جو پورے