معجزات القرآن — Page 38
”“ 73 “ 74 تک حروف مقطعات اور سورۃ فاتحہ کے اعداد سے جو 3385 کی صورت میں سامنے آچکے تھے ملتِ اسلامیہ کی عمر کے متعلق کوئی نتیجہ اخذ کرناممکن نہ تھا لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت یہ تھی کہ ان معارف کو جوحروف مقطعات کے اعداد میں ایک سربستہ راز کی طرح تھے اب انہیں منکشف فرما دیں کیونکہ اب وہ وقت آ گیا تھا کہ جس کے بعد انہوں نے ظاہر ہو کر صداقت قرآن اور صداقت اسلام کی گواہی دینی تھی۔سو اللہ تعالیٰ نے میری راہنمائی کیلئے بعض ایسی تحریرات دیکھنے کا موقع دے دیا جن کا تعلق حضرت بانی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام سے تھا۔اس لئے میں نے اُن تحریرات کو پوری توجہ سے پڑھا۔سب سے پہلے آپ کی جو تحریر میرے سامنے آئی وہ میتھی کہ قرآن شریف کے حروف اور ان کے اعداد بھی معارف مخفیہ سے خالی نہیں ہوتے۔نزول مسیح۔روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 422) پھر آپ نے اپنے اس دعویٰ کی تصدیق کیلئے سورۃ العصر کو پیش فرمایا اور لکھا کہ قرآن شریف کے عجائبات کبھی ختم نہیں ہو سکتے اور جس طرح صحیفہ فطرت کے عجائب وغرائب خواص کسی پہلے زمانہ تک ختم نہیں ہو چکے بلکہ جدید در جدید پیدا ہوتے جاتے ہیں یہی حال ان صحفِ مظہر ہ کا ہے تا خدائے تعالیٰ کے قول اور فعل میں مطابقت ثابت ہو۔اس عاجز پر کھلا ہے کہ ابتدائے خلقت آدم سے جس قدر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ بعثت تک مدت گزری تھی وہ تمام مدت سورۃ العصر کے اعداد حروف میں بحساب قمری مندرج ہے یعنی 4740“۔(ازالہ اوہام حصہ اول۔روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 258-259) نیز آپ نے ایک اور جگہ تحریر فرمایا:۔” خدا تعالیٰ نے مجھے ایک کشف کے ذریعہ سے اطلاع دی ہے کہ سورۃ العصر کے اعداد سے بحساب ابجد معلوم ہوتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک عصر تک جو عہد نبوت ہے یعنی 23 برس کا تمام و کامل زمانہ یہ کل مدت گزشتہ زمانہ کے ساتھ ملا کر 4739 برس ابتدائے دنیا سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روز وفات تک قمری حساب سے ہیں۔اور شمسی حساب سے یہ مدت 4598 ہوتی ہے اور عیسائیوں کے حساب سے جس پر تمام مدار بائبل کا رکھا گیا ہے 4636 برس ہیں۔اس سے ظاہر ہوا کہ قرآنی حساب جو سورۃ العصر کے اعداد سے معلوم ہوتا ہے اور عیسائیوں کی بائبل کے حساب میں جس کی رو سے بائبل کے حاشیہ پر جابجا تاریخیں لکھتے ہیں صرف اتیس برس کا فرق ہے اور یہ قرآن شریف کے علمی معجزات میں سے ایک عظیم الشان معجزہ ہے۔“ 38 (تحفہ گولٹر ویہ۔روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 251_253) بلا شبہ یہ انکشاف ایک عظیم الشان علمی معجزہ ہے۔اگر دنیا بھر کے علماء، ادبا اور شعر امل کر حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش سے لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سن وصال تک کے زمانہ کی تاریخ نکالنا چاہیں تو ہرگز نہیں نکال سکیں گے اور اگر نکالیں گے بھی تو نہایت بھونڈے اور بے معنی حروف جمع کر دیں گے جنہیں علم و معرفت اور حکمت سے دور کا بھی واسطہ نہ ہوگا۔پھر یہی نہیں کہ یہ معجزہ صرف اپنی ذات میں معجزہ ہے بلکہ اس معجزہ کے انکشاف سے ہمارے لئے سورۃ فاتحہ اور حروف مقطعات کے اعداد میں تدبر کرنے کی راہ ہموار