معجزات القرآن — Page 26
" “ 49 49 برسر پیکار رہے گی اور آخری زمانہ میں یہ جنگ اپنے نقطۂ عروج تک جا پہنچے گی اور ابلیسی طاقتیں یعنی دجالی قومیں جن سے مراد یا جوج و ماجوج ہیں جو اسلام کے نور کو بجھانے کیلئے اٹھ کھڑی ہوں گی۔لیکن اللہ تعالیٰ ایسے اسباب پیدا کر دے گا کہ وہ نا کام و نامراد ہوکر آخر کار خود ہی مٹ جائیں گی۔ان تمام کوائف سے ظاہر ہے کہ جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوی زندگی دو حصوں میں منقسم ہوئی۔ملت اسلامیہ بھی بعینہ اسی طرح دوحصوں میں منقسم ہے۔نشأة اولیٰ کو مکی زندگی کے تیرہ سالہ دور کے مقابل تیرہ صدیاں حاصل ہوئیں۔اور نشاۃ ثانیہ کو مدنی عہد کے دس سالہ دور کے مقابل دس صدیاں حاصل ہوں گی۔خلاصہ یہ کہ جب سورۃ فاتحہ اور حروف مقطعات کا جائزہ لیا جائے تو وہ ان جملہ کوائف کی تصدیق کرتے ہیں۔ان کو ائف تک ہم کس طرح پہنچے اس کی تفصیل آگے آئے گی۔اعجاز القرآن معجزہ: معجزہ ایسے خارق عادت امر کو کہتے ہیں جس کے ساتھ چیلنج موجود ہو اور پھر کوئی اس چیلنج کا جواب نہ دے سکے اور اگر کوئی جواب دینے کی کوشش کرے تو ناکام رہے۔اقسام معجزہ: معجزہ کی دو قسمیں ہیں (1) حسی (2) عقلی۔بنی اسرائیل کے اکثر معجزات حسی تھے جس کی وجہ یہ تھی کہ وہ قوم بڑی کند ذہن اور کم فہم تھی اور اس اُمتِ محمدیہ کے زیادہ تر معجزات عقلی ہیں جن کا سبب اس وقت کے افراد کی زکاوت اور ان کی عقل کا کمال ہے اور دوسرا سبب یہ ہے کہ شریعت مصطفوی چونکہ قیامت تک باقی “ 50 50 رہنے والی شریعت ہے اس واسطے اس کو یہ خصوصیت عطا ہوئی کہ اس کے شارع اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمیشہ قائم اور باقی رہنے والا عقلی معجزہ دیا گیا تا کہ اہل بصیرت اسے ہر وقت اور ہر زمانے میں دیکھ سکیں۔(الاتقان۔باب اعجاز القرآن صفحہ 352 حصہ دوم ) صاحب اتقان کا یہ نظریہ قرآن شریف اور حدیث شریف سے مستفاد ہے۔قرآن شریف کا دعویٰ بھی یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے بڑا معجزہ قرآن ہے۔چنانچہ فرمایا:۔وَقَالُوا لَوْ لَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ آيَاتٌ مِّنْ رَّبِهِ قُلْ إِنَّمَا الْأَيَاتُ عِنْدَ اللهِ وَإِنَّمَا انَ نَذِيرٌ مُّبِينٌ أَوَلَمْ يَكْفِهِمْ أَنَّا أَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ يُتْلَى عَلَيْهِمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَرَحْمَةً وَذِكْرَى لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ (العنکبوت آیت 51-52) ترجمہ: یہ لوگ کہتے ہیں اس نبی کو اس کے رب کی طرف سے کوئی معجزہ کیوں نہیں دیا گیا سو آپ ان سے کہہ دیجئے کہ معجزات کا دکھانا یا نہ دکھانا یہ خدا کا کام ہے اور میرا کام تمہیں متنبہ کرنا ہے اور پھر فرمایا ) کیا ان کافروں کے لئے یہ معجزہ کم ہے کہ ہم نے تجھ پر ایک ایسی کتاب اتاری ہے جوان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہے اور جس میں مؤمنین کے لئے رحمت اور نصیحت رکھ دی گئی ہے۔اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے بڑا معجزہ قرآن کریم ہے۔خود حضور نے بھی یہی دعوئی فرمایا کہ میرا سب سے بڑا معجزہ میری وحی ہے چنانچہ حضرت ابو ہریرۃ" سے مروی ہے۔" قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ