معجزات القرآن

by Other Authors

Page 120 of 126

معجزات القرآن — Page 120

”“ 237 معلوم ہوا ہے کہ عربی زبان کی ادویہ کو ان بیماریوں سے خاص تعلق ہے جن بیماریوں کے اسما میں دوائیوں کے اسما کے حروف پائے جاتے ہوں۔مثلاً جدوار آپ کو پیغام دیتی ہے کہ اگر آپ جددی (چیچک ) کا شکار ہو گئے ہیں تو میں آپ کی امداد کے لئے حاضر ہوں اور ”عسل‘ درخواست کر رہا ہے کہ سعال ( کھانسی ) میں مجھے استعمال فرمائیے اور جائفل کہتا ہے کہ فالج کے وقت مجھے یاد فرمائیے اور صبر اور مصبر کا اشارہ یہ ہے کہ برص کا علاج ہم ہیں ایسے ہی ارز (چاول ) کہتے ہیں کہ زیر پیچش میں آپ ہمیں مفید پائیں گے اور کلونجی کا اشارہ یہ ہے کہ اگر آپ قولنج میں مبتلا ہو گئے ہیں تو مجھے کھائیے اور نجات پائیے ( یعنی کل کھا اور درنج نجات پا ) اور بقول اور باقلہ قلب کی امراض میں خدمت کے لئے حاضر ہیں اور عشر اور عشیر یعنی آگ اور جو کا پیغام یہ ہے کہ رعشہ میں ہم آپ کی خدمت کے لئے حاضر ہیں اور طحلب ( کائی) کا پیغام یہ ہے کہ ڈال کی امراض میں مجھ سے کام لیجئے اور بلبل آواز دے رہی ہے کہ اگر آپ بول نہیں سکتے تو مجھے کھائیے یا میرا خون پیجئے اور آواز کی بیماریوں سے نجات پائیے۔کیونکہ آپ نے بولنے کا لفظ میرے نام سے لیا ہے۔اور خدا نے مجھے بلبل کا نام اس لئے دیا ہے کہ میں طرح طرح کی بولیاں بول سکتی ہوں۔اور بولنے سے مجھے خاص تعلق ہے۔ایسے ہی یا قوت کا اشارہ ہے اگر آپ اپنی قوت ضائع کر بیٹھے ہیں تو مجھے استعمال فرمائیں۔میں قوت کا خزانہ ہوں۔اور یاسمین پکار رہی ہے کہ اے کمزور اور لاغر لو گو میری طرف آؤ اور مجھ سے فائدہ اٹھاؤ میں تمہیں سمین (موٹا) بنادوں گی۔ایسے ہی درخت بان (بکائن ) کہتا ہے کہ اگر آپ کی ناب یعنی ڈاڑھ میں تکلیف ہے تو میرا انجن استعمال فرمائے۔تکلیف جاتی رہے گی۔ایسے ہی ریحان یعنی نیاز بو کی درخواست یہ ہے کہ اگر آپ ریح کی شکایت میں مبتلا ہیں تو نیاز “ 238 مند راحت پہنچانے کو حاضر ہے۔غرضیکہ عربی زبان اپنی ساخت کے لحاظ سے ہمیں نہایت لطیف اشارے کر رہی ہے۔مگر ان اشاروں کو سمجھنا ان لوگوں کا کام ہے جو اس کے اہل ہوں۔میں طبیب نہیں ہوں اس لئے اس بارہ میں کوئی مکمل تحقیق پیش نہیں کر سکتا۔البتہ جو چند کلمات پیش خدمت کئے ہیں وہ طب کے مطابق ہیں۔اور طبی کتب ان کی تصدیق کرتی ہیں۔عربی دان اطبا سے گزارش ہے کہ وہ اس طرف خاص توجہ مبذول فرما کر تحقیق فرما دیں ممکن ہے کہ اس الہامی زبان (عربی) کی بدولت علم طب میں ایک نئے باب کا اضافہ ہو جائے۔یا اس جدید انکشاف سے علم طب کا محل نئی بنیادوں پر کھڑا ہو جائے۔اس تحقیق کے وقت ہمیں سیدنا حضرت مسیح موعود کا یہ ارشاد پیش نظر رکھنا چاہئے کہ عربی کے الفاظ وہ الفاظ ہیں جو خدا کے منہ سے نکلے ہیں اور دنیا میں فقط یہی ایک زبان ہے جو خدائے قدوس کی زبان اور قدیم اور تمام علوم کا سر چشمہ اور تمام زبانوں کی ماں اور خدا کی وحی کا پہلا اور آخری تخت گاہ ہے۔“ اسلامی اصول کی فلاسفی صفحہ 102 ایڈیشن 1996ء) (روز نامه الفضل 15 مئی 1958 ، صفحہ 4،3)