معجزات القرآن

by Other Authors

Page 118 of 126

معجزات القرآن — Page 118

”“ 233 “ 234 عربی زبان کی بعض امتیازی خصوصیات عربی زبان چونکہ الہامی زبان ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس میں اپنی بے مثال ذات کی طرح بعض ایسی بے نظیر صفات رکھ دی ہیں کہ جن کی بدولت وہ تمام زبانوں میں بیگانہ اور منفرد ہے۔ان امتیازی صفات میں سے ایک صفت یہ ہے کہ اس کے اسماء اور افعال اپنے معانی پر آپ دلالت کرتے ہیں۔کیونکہ وہ جن حروف سے ترکیب پاتے ہیں وہ حروف اپنی ذات میں بعض ایسی خصوصیات کے حامل ہوتے ہیں کہ جب وہ کسی اسم یا فعل میں مجتمع ہوتے ہیں تو اس اسم یا فعل میں ایک ایسی کیفیت یا ایک ایسا رنگ پیدا کر دیتے ہیں کہ جس کے باعث وہ اسم یا فعل اپنے مسمی یا اپنے معنی کے لئے مخصوص ہو جاتا ہے۔مثلاً اگر ہم اپنی اردو زبان میں مچھر کا نام مکھی رکھ دیں اور مکھی کو مچھر کا نام دے دیں۔تو ہماری زبان کے وہ حروف جو لکھی اور مچھر کے کلمات میں مستعمل ہیں یعنی م۔کھی یا مچھ۔۔۔وغیرہ ہم سے یہ شکوہ نہیں کریں گے کہ آپ نے ہمیں بے محل کیوں استعمال فرمایا۔اور ہمیں اصل مسلمی سے الگ کر کے ایک نقلی مسلمی پر کیوں چسپاں فرمایا۔کیونکہ ان حروف کی ذات میں کوئی ایسی خصوصیت نہیں پائی جاتی کہ جسے نظر انداز کرنے سے ہم وَضْعُ الشَّيئ فِي غَيْرِ فَحَلِهِ “ کے گناہ کے ارتکاب میں مورد الزام ٹھہریں لیکن اس کے برعکس اگر ہم عربی زبان میں مچھر (بَعُوضَةٌ ) کو کھی ( ذباب) کا نام دے دیں اور مکھی کو مچھر کا نام دے دیں تو اس صورت میں ہم ” وَضْعُ الشَّيْءٍ فِي غَيْرِ محله “ یعنی بے محل اقدام کے ارتکاب کے مجرم ٹھہریں گے اور ہمارے اس فعل سے ان الفاظ کے حروف کی طرف سے صدائے احتجاج بلند کی جائے گی کہ آپ نے ہم پر یہ ظلم کیوں کیا اور ہمارے قبیلہ کے پر ایک فرد کو بلا وجہ کیوں جلا وطن کر دیا ؟ اور یہ اس لئے کہ عربی زبان کا مچھر۔م۔چھ۔۔۔کی بجائے۔ب۔ع۔ض۔سے بنا ہوا ہے۔اور یہ حروف جب مجتمع ہوتے ہیں تو ان میں بعضیت اور جزویت یعنی کچھ چیز۔تھوڑی چیز یا ذراسی چیز کے معنی پیدا ہو جاتے ہیں۔اس لئے مچھر کو بَعُوضَةٌ کہا گیا۔کیونکہ وہ اپنے خاندان ” بعض“ کا ایک فرد ہے اور اپنے وجود میں وہ ایک تھوڑی سی ، ذراسی ، اور نا چیز سی چیز ہے۔اس لئے اسے اپنے خاندان سے الگ کرنا نا جائز اور ناروا ہے۔ایسے ہی اگر ہم ذباب کو بعوضتہ کہہ دیں تو پھر ذبیان کے قبائل میں تہلکہ پڑ جائے گا۔کیونکہ یہ قبائل ذب کی نسل سے ہیں۔اور ذب کے معنے ہٹانے اور ہٹائے جانے کے ہیں۔اور ذباب اسی قبیلہ کا ایک فرد ہے۔کیونکہ وہ چاہتی ہے کہ صاحب طعام ، طعام سے ہٹ جائے اور وہ خود طعام کو چٹ کر جائے۔اور صاحب طعام ہر وقت اس کوشش میں رہتا ہے کہ یہ موذی کھانے کے قریب نہ پھٹکنے پائے اور فریقین میں یہ ہٹ ہٹاؤ کا سلسلہ ابتدائے آفرینش سے جاری ہے اس لئے عربی کی مکھی صرف ذباب ہی کہلا سکتی ہے۔اگر اسے بعوضۃ کہا جائے تو پھر اسے اپنی قدیم عادت کو چھوڑنا پڑے گا اور لذیذ وشیر میں طعام سے منہ موڑنا پڑے گا۔مگر ظاہر ہے کہ وہ اپنی خونہ چھوڑے گی۔اور جب ع وہ اپنی خو نہ چھوڑیں گے ہم اپنی وضع کیوں چھوڑیں ایک اور بات بھی توجہ کے لائق ہے اور وہ یہ کہ عربی زبان میں جن کلمات میں ایک جنس کے حروف جمع ہو جاتے ہیں۔ان میں باہم ایک ایسا رشتہ پیدا ہو جاتا ہے کہ جو کسی کے توڑنے سے ٹوٹ نہیں سکتا۔اور اس رشتہ کی کیفیت کا مدار حروف کی کمیت پر ہے۔یعنی دو کلموں میں جتنے ہم جنس حروف زیادہ ہوں گے اتنا ہی ان کے معانی میں ارتباط زیادہ ہو گا۔اور جتنے کم ہوں گے اتنا کم مثلاح۔ل۔م