معجزات القرآن

by Other Authors

Page 115 of 126

معجزات القرآن — Page 115

”“ 227 کر دیا گیا ہے تا کہ یہ بتا یا جائے کہ اس تسبیح کا جس زمانہ سے تعلق ہے اس زمانے میں اس رنگ میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح نہیں ہو سکی جس رنگ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری پر ہوئی۔اس سورۃ کا تعلق حضرت نوح سے لے کر حضرت عیسی کے زمانے تک ہے اور اس کا ثبوت اس سورۃ کی مندرجہ ذیل آیات ہیں ترجمہ :۔اور ہم نے نوٹ اور ابراہیم کو بھی رسول بنا کر بھیجا تھا اور ان کی ذریت سے نبوت اور کتاب کو مخصوص کر دیا تھا۔لیکن بعض ان میں ہدایت پانے والے تھے اور بہت لوگ ان میں سے فاسق تھے۔پھر ہم نے ان ( یعنی اولا د نوح و ابراہیم ) کے بعد اپنے رسول ان کے نقش قدم پر بھیجے اور عیسی ابن مریم کو بھی ان کے نقش قدم پر چلایا۔“ (الحديد 3/19 تفسیر صغیر ) ان الفاظ سے ظاہر ہے کہ اس سورۃ میں جس تسبیح کا ذکر ہے اس کا تعلق حضرت نوح سے لے کر حضرت عیسی تک کے زمانہ سے ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس تسبیح میں لفظ ” الارض “ سے پہلے حرف ما‘اور حرف ” فی “ کو ترک کر دیا گیا ہے تاکہ ظاہر ہو کہ ان انبیاء کی قو میں کماحقہ تسبیح نہ کر سکیں اور معرفت الہی کا جو حق ہے اس سے قاصر رہیں۔66 یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ سورتوں کے نام بھی اپنی ذات میں ایک اہم حقیقت کے حامل ہوتے ہیں۔اس سورۃ کا نام الحدید اس لئے رکھا گیا ہے کہ حضرت نوع کا زمانہ لوہے کا زمانہ تھا اور پتھر کا زمانہ اس سے بہت پہلے گزر چکا تھا۔سورۃ الحدید کے بعد اگلی سورۃ تسبیح سے خالی ہے اور اس کا نام المجادلہ رکھا گیا تا کہ ظاہر ہو کہ حضرت نبی کریم کے ظہور سے پہلے دنیا ظهرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ کی مصداق ہو چکی تھی اور ابنائے آدم کے قلوب معرفت الہی سے سراسر خالی ہو چکے تھے اور مذہبی مسائل کی بنیاد دلائل و براہین پر نہ تھی بلکہ ہنگامہ آرائی اور جنگ و جدال کے ذریعہ “ 228 اپنے اپنے مذاہب کی تائید کی جاتی تھی۔سورۃ المجادلہ کے بعد سورۃ الحشر ہے اس سورۃ میں تسبیح کے الفاظ یوں آئے 66 66 ہیں۔سَبَّحَ لِلهِ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيم ان الفاظ میں لفظ ” الارض “ سے پہلے حرف ما‘ اور حرف ” فی“ بڑھا دیا گیا ہے کیونکہ اس سورۃ کا تعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اولیٰ سے ہے اور سورۃ کا مضمون شاہد ہے کہ یہود مدینہ کے اخراج کا ذکر ہے اور سورۃ کا نام الحشر اس لئے رکھا گیا کہ یہ پہلی مڈبھیڑ تھی جو یثرب کے یہود قبیلہ بنونظیر سے ہوئی اور لفظ الحشر یہ بھی بتا تا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم الحاشر اس بنا پر ہیں کہ حضور آخر کار تمام ادیان باطلہ کو شکست دے کر تمام قوموں کو اسلام کے سائے میں جمع کر دیں گے۔یہ بات ابھی کہی جا چکی ہے کہ اس سورۃ کا تعلق حضور کی بعثت اولی سے ہے اور یہ ظاہر ہے کہ ہزار سال کے بعد جب امت محمدیہ نے قرآن شریف کی تعلیم کو نظر انداز کر دیا تو پھر ان میں لازمی طور پر معرفت الہی میں کمی آ گئی۔اسی بنا پر اس سورۃ میں فرمایا گیا ہے کہ يُسَبِّحُ لَهُ مَا فِي السَّمَوتِ وَ الْاَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الحکیم ان الفاظ میں بجائے فعل ماضی سَبَّحَ کے فعل مضارع کا صیغہ يُسَبِّحُ استعمال کیا گیا ہے تا کہ اس طرف اشارہ ہو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کے بعد اسلام کی نشاۃ اولی میں معرفت الہی والی وہ بات نہیں رہے گی جو اسلام کے خیر القرون میں تھی۔اس بنا پر ” الارض “ سے قبل حرف ” ما‘ اور حرف ”فی “ کو حذف کر دیا گیا ہے تا ظاہر ہو کہ اب تسبیح میں کمی آگئی ہے۔سورۃ حشر کے بعد سورۃ ممتحنہ ہے اس میں تسبیح نہیں آئی تا ظاہر ہو کہ اسلام کی نشأة اولیٰ پر ایک ایسا وقت بھی آجائے گا کہ جبکہ امت محمدیہ امتحان میں پڑ جائے گی۔زبان پر تو لفظ اسلام ہو گا لیکن دل نور ایمان سے خالی ہوگا اور اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ 66