معجزات القرآن

by Other Authors

Page 113 of 126

معجزات القرآن — Page 113

”“ 223 “ 224 قرآن حکیم میں ترتیب پائی جاتی ہے قرآن کریم کی ترتیب کے بارہ میں اختلاف ہے۔بعض علما کے نزدیک قرآن شریف کی سورتوں میں با ہم کوئی ربط نہیں ہے۔سوائے اس کے کہ لمبی لمبی سورتیں شروع میں رکھ دی گئی ہیں اور باقی سورتیں بغیر کسی ترتیب کے آخر میں رکھ دی گئی ہیں۔لیکن یہ خیال کہ سورتوں میں کوئی ربط نہیں سراسر غلط ہے کیونکہ اس خیال کی بنیاد قرآن شریف کو زمانہ ماضی کے آئینے میں دیکھنے پر ہے۔اگر قرآن شریف کو زمانہ ماضی کے آئینہ میں دیکھا جائے تو اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس میں بظاہر کوئی ترتیب نظر نہیں آتی۔مثال کے طور پر دیکھئے کہ قرآن شریف میں چھ سورتیں انبیاء کے نام پر آئی ہیں لیکن قرآن کریم میں انہیں اس طرح رکھا گیا ہے کہ با ہم کوئی ربط نظر نہیں آتا۔پہلی سورۃ یونس ہے۔دوسری ہود ہے۔تیسری یوسف ہے۔چوتھی ابراہیم ہے، پانچویں محمد ہے۔چھٹی نوح ہے۔ان تمام سورتوں کو قرآن شریف میں جس ترتیب سے رکھا گیا ہے از روئے زمانہ ان میں با ہم کوئی ربط نہیں۔اس کے علاوہ بعض ایسی باتیں بھی ہیں انہیں اگر زمانہ ماضی کے آئینہ میں دیکھا جائے تو حیرت ہوتی ہے کہ یہ بے ترتیبی کیسی ہے۔مثلاً سورۃ ابراہیم میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ جس نے مجھے بڑھاپے میں اسماعیل اور اسحاق عطا فرمائے۔“ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ سورۃ ابراہیم کے بعد جو اگلی سورۃ الحجر ہے اس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کہا جا رہا ہے کہ " ہم تجھے غلام علیم کی بشارت دیتے ہیں“ اور ( غلام علیم سے مراد حضرت اسحاق علیہ السلام ہیں ) جن کی پیدائش پر سورۃ ابراہیم میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔کیا یہ عجیب بات نہیں ہے کہ جو بچہ پہلے پیدا ہو چکا ہے بعد کی سورۃ میں اس کی پیدائش کی خوشخبری دی جا رہی ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ واقعی قرآن شریف میں کوئی ترتیب نہیں ہے لیکن اس بے ترتیبی کا باعث انسان کی یہی کمزوری ہے کہ وہ قرآن شریف کے ہر قصہ کو زمانہ ماضی کے آئینہ میں دیکھتا ہے حالانکہ قرآن شریف ایک قصہ گو کتاب کی طرح نہیں ہے بلکہ اس کے ہر ایک قصہ کے نیچے پیشگوئی ہوتی ہے۔وہ زمانہ ماضی کی تاریخ بیان نہیں کرتا بلکہ زمانہ ماضی کے پردے میں مستقبل کی باتیں کرتا ہے اور آئندہ میں جو کچھ ہونے والا ہوتا ہے اس کے مناسب حال وہ زمانہ ماضی کے نقص پیش کرتا ہے۔قرآن شریف اپنے آپ کو قرآن حکیم اور کتاب حکیم کہتا ہے اور عربی زبان میں لفظ حکیم اور لفظ حکمت کا مفہوم یہ ہے کہ ہر چیز کو اس کے موقع اور محل کے مطابق رکھا جائے اور اپنے ما بعد اور ماقبل سے اس چیز کو یا اس بات کو ایسا ربط ہو کہ درمیان میں کسی خلا کی ذرہ بھر بھی گنجائش نہ ہو۔لہذا اگر قرآن شریف کی سورتوں میں با ہم کوئی ربط نہ ہو تو پھر ہم اس کتاب کو کتاب حکیم نہیں کہ سکیں گے حالانکہ اس کا اپنا دعویٰ یہ ہے کہ میں کتاب حکیم ہوں۔علاوہ ازیں قرآن شریف ہمیں تدبر کی دعوت دیتا ہے اور تدبر کے معنے سیاق و سباق اور آگا پیچھا دیکھنے کے ہیں اور اگر سورتوں میں با ہم کوئی ربط نہ ہو تو پھر تدبر کی دعوت بے معنی ٹھہرتی ہیں۔نیز آنحضرت نے فرمایا ہے کہ: " مجھے تو رات کی جگہ سات طوال سورتیں اور زبور کی جگہ پر