معجزات القرآن — Page 112
“ 66 221 احیائے موتی کے ثبوت میں پیش فرماتا ہے۔جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہر سلیم الفطرت انسان کو پورا یقین ہو جاتا ہے کہ انسان مرنے کے بعد یقینا زندہ کیا جائے گا اور پھر یہی نہیں بلکہ ساتھ ہی اُسے یہ بھی محسوس ہونے لگتا ہے کہ یہ مادی عالم ایک روحانی عالم کے متشابہ ہے۔اور روحانی عالم ایک نورانی عالم سے مستفیض ہے۔اور اللہ تعالیٰ کی ذات ہر فیض کا سرچشمہ اور ہر تغیر و تبدل کے لئے علت العلل ہے۔بہر حال اس حقیقت کو سمجھنے کے لئے کہ قرآن کریم سورۃ فاتحہ کی بسمہ اللہ کی ”ب“ سے لے کر اپنے آخری لفظ والناس کی ”س“ تک ایک ہی کلمہ ہے اور یہ کہ جملہ کا ئنات اسی کلمہ کے اشارے پر چل رہی ہے۔اور یہ کہ نوع انسانی کا قافلہ جنت سے نکل کر پھر فردوس تک پہنچنے کے لئے جس رفتار سے گامزن ہے اس کے جملہ مراحل و منازل اس کلام میں بمع علل و اسباب اور نتائج بالترتیب بیان ہو رہے ہیں۔ذیل کے وسائل سے قرآن کریم کے اسلوب بیان کو سمجھنے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔اول۔قرآن کریم کے مقام کو خود اللہ تعالیٰ کے کلام ، رسول اللہ کی احادیث، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات ، حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تفسیر اور ائمہ سلف کے ارشادات کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کی جائے۔دوم :۔قرآن کریم کی ہر سورت کے محل وقوع پر اور ان اسماء اللہ پر غور کیا جائے جن اسما کی یہ سورت مظہر ہو۔نیز یہ دیکھا جائے کہ ان اسماء اللہ سے سورت میں کیا مضمون پیدا ہوا۔سوم:۔ہر سورت کے نام، مضمون اور ابتدائی کلمات اور آخری کلمات پر غور فرمائیے۔چہارم :۔سورۃ فاتحہ میں اور قرآن کریم کی سور میں مؤاخات اور مطابقت پیدا کرنے کی کوشش کی جائے۔پنجم :۔مقطعات پر غور کیا جائے اور ان کی حقیقت کو سمجھنے کے لئے ان سورتوں “ 222 میں غور کیا جائے۔جن کے شروع میں ایک ہی طرح کے حروف مقطعات آئے ہیں اور وجہ اشتراک تلاش کی جائے۔ششم :۔قرآن کریم کی جملہ آیات بلکہ جملہ الفاظ کا تتبع کیجئے۔کہ وہ کہاں کہاں مگر رآئے ہیں اور جن سورتوں میں ایک ہی مضمون کی آیات یا الفاظ مگر رآئے ہوں۔ان میں باہم رابطہ کی وجہ تلاش کیجئے۔نیز بوقت تکرار آیات کے الفاظ میں یا آیات کے حروف میں کوئی فرق واقع ہو تو اس کی حکمت کو سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ہفتم : قصص انبیاء کے محل وقوع پر غور کیا جائے اور ان کے بظاہر غیر مرتب طور پر اور پھر بار بار مذکور ہونے کی وجہ تلاش کی جائے۔ہشتم کسی صورت آیت اور لفظ یا حروف کی حکمت کو سمجھنے کے لئے اپنے پاس سے کوئی بات پیدا نہ کی جائے بلکہ ہر بات کو قرآن کریم سے دریافت کرنے کی کوشش کی جائے۔اگر توفیق ایزدی اور خوش نصیبی نے ساتھ دیا تو یہ ہادی کتاب صد ہا بصائر کے ساتھ آپ کو اصل حقیقت تک پہنچا دے گی۔لیکن اگر کسی حجاب کے باعث کوئی مشکل پیش آئے۔تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام، مصلح موعود ایدہ اللہ الودود اور امت کے ائمہ سلف کی طرف رجوع کرنا چاہئے۔غرض یہ آٹھ طریق ہیں۔جن کو پیش نظر رکھنے سے مؤمن کی نگاہ قرآن کریم کےالفاظ کے پردوں سے نکل کر اس کے باطن تک پہنچ سکتی ہے اور وہ لطیف تر تیب جو بظاہر نگاہوں سے پنہاں ہے۔خود بخو د نظر آنے لگتی ہے اور اگر اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ سعادت نصیب ہو جائے تو پھر اس کتاب مکنون کے حسن پنہاں کی ایک ادنی سی جھلک انسان کو وارفتہ کر دیتی ہے اور انسان بے ساختہ پکار اٹھتا ہے۔دامان نگه تنگ و گل حُسنِ تو بسیار گل چین بهار تو ز داماں گله دارد ( منقول از الفضل مؤرخہ 2 ستمبر 1958 ، صفحہ 4،3)