معجزات القرآن

by Other Authors

Page 119 of 126

معجزات القرآن — Page 119

”“ 235 “ 236 تین حرف ہیں۔اگر یہ اکیلے اکیلے لئے جائیں تو ان کی ذاتی خصوصیات اپنی انتہائی لطافت کے باعث انتہائی باریک بینی اور انتہائی غور و خوض کی محتاج ہو جائیں گی۔لیکن جب یہ تینوں کسی کلمے میں مجتمع ہو جائیں تو پھر ان کے اجتماع سے ان کی اجتماعی خصوصیت ایسی اجاگر ہو جاتی ہے کہ وہ سرسری نگاہ کا بھی دامن تھام لیتی ہے اور اسے مسکرا کر یہ پیام دیتی ہے کہ یہ تین حرف جہاں بھی پائے جائیں گے وہاں ظاہری یا باطنی حسن اور قوت کا پایا جانا ضروری ہے۔اور آپ خواہ انہیں کتنا الٹ پلٹ کریں یہ حسن وقوت کی خصوصیت ان کا ساتھ نہیں چھوڑے گی۔مثلاً لفظ حلم اندرونی قومی کی قوت پر دلالت کرتے ہے اور اسی سے حلیم مشتق ہے۔اور یہ حلم بالغ ہونے اور عقل مند ہونے کی ظاہری قوت کی طرف اشارہ کرتا۔ایسے ہی حمل برداشت کرنے کی قوت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔اور اسی لفظ سے متحمل اور تحمل کے الفاظ بنے ہیں۔ایسے ہی لحم گوشت اور موٹاپے کی طرف اشارہ کرتا ہے اور اسی سے لفظ لحیم بنا ہے۔اور ایسے ہی ملح نمک نمکین یعنی ملاحت اور حسن ظاہری کی طرف اشارہ کرتا ہے۔غرضیکہ عربی زبان کے حروف میں یہ کمال ہے کہ وہ ایک مخصوص خدوخال کے مالک ہیں۔یا ایک امتیازی رنگ و بو کے حامل ہیں۔گویا حروف پھول ہیں اور کلمات گلدستے اور انہی پھولوں کی کثرت وقلت کی بدولت ان کے گلدستوں میں باہم رشتہ پیدا ہو جاتا ہے۔ہم جنس پھول زیادہ ہیں تو رشتہ قریب کا ہے اور اگر ہم جنس کم تو رشتہ بعید کا۔اوپر کی مثال میں تین حرفوں کے اجتماع کی خاصیت پیش کی گئی ہے۔اب ذرا دو حرفوں کے اجتماع کی خصوصیت بھی ملاحظہ فرمائیں۔مثلاًق اور ض دو حرف ہیں۔اگر یہ اکیلے اکیلے ہوں تو ایک کم بصیرت کو ان کا خدو خال نظر نہیں آسکتا۔لیکن جو نہی یہ جمع ہوتے ہیں تو پھر ایک نابینا بھی پکار اٹھتا ہے کہ ہٹاؤ انہیں پرے یہ تو مجھے کاٹنے لگے ہیں۔یہ ق۔ض کیا ہیں گو یا مقراض کے دو باز و۔جب تک یہ الگ الگ تھے ناکارہ تھے۔لیکن جو نہی جمع ہوئے ایک کارگر قینچی بن گئے۔یعنی ق اور ض جس کلمے میں پائے جائیں گے وہ کلمہ کسی نہ کسی رنگ میں کاٹنے توڑنے پھوڑنے اور جدا کرنے کی ڈیوٹی سرانجام دے گا۔مثلاً قضب۔شاخ کاٹنا۔گھاس کاٹنا۔قرض۔قینچی کی طرح کاٹنا۔قضم۔چنوں جیسی اجناس کو چبانا۔قبض کسی چیز میں سے کچھ چیز لے لینا۔قبض بیماری کو بھی اسی لئے قبض کہتے ہیں کہ انتڑیاں کچھ فضلہ اپنے پاس رکھ لیتی ہیں۔قطبی: دوا لجھے ہوؤں کو سلجھانا۔فیصلہ کرنا اور قضیہ کو نپٹانا۔اب ایک ایک حرف کی الگ الگ خصوصیات کی توضیح بھی ملاحظہ فرمائیں۔آپ ذیل کے تین اسما پر غور فرمائیں رب آب اور اُم میں ان کلمات میں سے رب اور ام کے حروف میں کوئی اشتراک نہیں لیکن اس کے برعکس لفظ اب کو حرف (ب) کے واسطے سے رب سے تعلق ہے۔اور حرف (۱) کے واسطے سے ام سے۔اور اب کے معنی ہیں آلہ ایجاد اور پھر سامان معیشت مہیا کرنا پہلا مفہوم علیٰ قدر مراتب رب۔اب اور اُم کے تینوں کلمات میں پایا جاتا ہے لیکن رب مقدم ہے اب اوسط ہے اور ام مؤخر ہے۔اس کے برعکس دوسرا مفہوم صرف رب اور اب کے ساتھ مخصوص ہے۔لہذا معلوم ہوا کہ حرف با میں بقا کے لئے چارہ سازی کی روح پائی جاتی ہے۔اس لئے عربی زبان میں چارہ کو اب کہتے ہیں : اب اس حقیقت کو سمجھنے کے بعد کہ عربی زبان کے حروف اپنی ذات میں کسی نہ کسی مخصوص روح کے حامل ہوتے ہیں اور یہ کہ جن اسما میں ہم جنس حروف جمع ہو جاتے ہیں ان اسما میں با ہم کوئی نہ کوئی معنوی مناسبت ضرور ہوتی ہے آپ اللام والدواء کے حروف پر غور فرمائیے دونوں لفظوں کے حروف ہم جنس ہیں۔لہذا