معجزات القرآن

by Other Authors

Page 116 of 126

معجزات القرآن — Page 116

”“ 229 غیر مسلم طاقتیں ان پر چھا جائیں گی۔اس حقیقت کی طرف اشارہ کرنے کے لئے اس سورۃ میں امت کو یہ دعا سکھائی گئی ہے کہ رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِلَّذِينَ كَفَرُوا یعنی اے خدا ہمیں کافروں کے ظلم و ستم کا تختہ مشق نہ بنانا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب کسی نبی کے ظہور کا وقت آتا ہے تو اس سے پہلے جاہلیت کا دور آتا ہے۔اکثریت تاریکی میں ڈوبی ہوئی ہوتی ہے سوائے شاذ و نادرافراد کے۔سورۃ ممتحنہ کے بعد سورۃ صف آئی ہے اس کی تسبیح کے الفاظ وہی ہیں جو سورۃ حشر کے تھے۔یعنی سَبَّحَ لِلهِ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الحكيم یہ الفاظ دوبارہ اس لئے لائے گئے ہیں تا ظاہر ہو کہ سورۃ ”صف“ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ثانیہ کا ذکر ہے۔سورۃ حشر محمدی جلال کی مظہر ہے اور سورۃ صف احمدی جمال کی مظہر ہے۔اسی بناء پر اس میں اسمہ احمد “ والی پیشگوئی رکھی گئی ہے۔سورۃ صف کے بعد سورۃ جمعہ ہے ان دونوں سورتوں کے درمیان کوئی ایسی سورۃ نہیں رکھی گئی جو تسبیح سے خالی ہو۔یہ اس لئے کیا گیا ہے تا ظاہر ہو کہ پھر امت مسلمہ دوبارہ زندگی پا کر صدیوں تک تسبیح و تحمید میں لگی رہے گی۔سورۃ جمعہ میں تسبیح کے الفاظ یوں آئے ہیں ” يُسَبِّحُ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَوتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ، اس تسبیح میں الْمَلِكُ الْقُدوس کے الفاظ بڑھائے گئے ہیں۔تا ظاہر ہو کہ ملت اسلامیہ دوبارہ اللہ تعالیٰ کی شان الْمَلِكُ القدوس کی مظہر ہوگی اور لفظ جمعہ میں تین اشارے پائے جاتے ہیں۔اول : یہ کہ بعثت ثانیہ ششم ہزار میں ہوگی کیونکہ جمعہ چھٹا دن ہے اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک ایک دن ہزار سال کے برابر ہے۔“ دوم : یہ کہ وہ زمانہ اجتماعی دور کا ہوگا۔سوم : یہ کہ نشاۃ ثانیہ کا بانی جمعہ کے دن پیدا ہوگا۔230 سورۃ جمعہ کے بعد سورۃ المنافقون آتی ہے۔اس کا تعلق قرب قیامت سے ہے کیونکہ اس کے بعد سورۃ تغابن آئی ہے اور تغابن سے مراد یہی نفع نقصان کا دن ہے جو کہ روز جزا کہلاتا ہے۔سورۃ تغابن میں بھی تسبیح رکھی گئی ہے۔اس کے الفاظ ملاحظہ ہوں يُسَبِّحُ لِلَّهِ مَا فِي السَّمواتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ اس تسبیح میں لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ کے الفاظ آئے ہیں اور پھر وَ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَکیم کی بجاۓ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِير کے الفاظ آئے ہیں۔یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ تغابن کے دن انسان کی آنکھیں کھل جائیں گی اور اس پر یہ حقیقت منکشف ہو جائے گی کہ حقیقی بادشاہت اللہ تعالیٰ کی ہے اور تمام خوبیوں کا سر چشمہ بھی وہی ہے اور یہ کہ وہ ہر بات پر قادر ہے۔اس مختصر بیان سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آ جاتی ہے کہ قرآن شریف کی سورتوں کی ترتیب میں کسی انسانی دماغ کا دخل نہیں ہے بلکہ اس کی ترتیب عالم الغیب خدا کی مشیت پر مبنی ہے بالآخر یہ امر قابل ذکر ہے کہ قرآن شریف کی ترتیب کے تین پہلو ہیں۔(1) نزولی (2) وضعی(3) زمانی اگر قرآن شریف کے نزولی پہلو کو سامنے رکھ کر مکی سورتوں کی پہلے تلاوت کی جائے اور مدنی سورتوں کی حسب نزول بعد میں تلاوت کی جائے تو اس طریق سے قرآن نہی میں بڑی مددملتی ہے۔قرآن شریف کے دوسرے وضعی پہلو کی ترتیب بلا شبہ دقیق ہے۔اس کا صحیح طور پر احاطہ کرنا ناممکن ہے لیکن اس کے باوجود قرآن مجید میں بعض سورتوں میں