مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 22 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 22

22 پیدا شدہ فتنوں کا استیصال کرتا ہے، فرماتے ہیں :- ہر ایک مصلح اور مجدد جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے وہ لیلۃ القدر میں ہی اُترتا ہے۔تم سمجھتے ہو کہ لیلۃ القدر کیا چیز ہے۔لیلۃ القدر اس ظلماتی زمانہ کا نام ہے جس کی ظلمت کمال کی حد کو پہنچ جاتی ہے۔اس لیے وہ زمانہ بالطبع تقاضا کرتا ہے کہ ایک نور نازل ہو جو اس ظلمت کو دور کرے۔اس زمانے کا نام بطور استعارہ کے لیلتہ القدر رکھا گیا ہے مگر در حقیقت یہ رات نہیں ہے۔یہ ایک زمانہ جو بوجہ ظلمت رات کا ہمرنگ ہے۔نبی کی وفات یا اس کے روحانی قائمقام کی وفات کے بعد جب ہزار مہینے جو بشری عمر کے دور کو قریب الاختتام کرنے والا اور انسانی حواس کے الوداع کی خبر دینے والا ہے گزرجاتا ہے تو یہ رات اپنا رنگ جمانے لگتی ہے۔تب آسمانی کارروائی سے ایک یا کئی مصلحوں کی پوشیدہ طور پر تخم ریزی ہو جاتی ہے جو نئی صدی کے سر پر ظاہر ہونے کیلئے اندر ہی اندر طیار ہورہے ہیں“۔۰ صدی کا سر صدی کے سر سے کیا مراد ہے؟ یہ بات بھی زیر بحث ہے۔اس کا ذکر کرتے ہوئے نواب صدیق حسن خانصاحب لکھتے ہیں :- " در حاشیه مشکوۃ مسمی بنجوم المشکوة تالیف مولانا محمد صدیق گفته ان الله يبعث لهذه الامة اذا ماتت السنن و حدثت البدع على رأس كل مائة سنة اى عند انقضاء المأئة من وقت بعثه عليه السلام او موته او تكمله۔۔۔۔۔پس راجح ہمیں ست کہ مراد بر اُس کل مائکہ طول زمان یک مائیکه ست کردر میں عرض مدت از مجدد ناگزیریست خواه در اول مائته باشد یا در وسط یا در آخر اسے ترجمہ: مشکوۃ کے حاشیہ نجم المشکواۃ جو مولانا محمد صدیق کی تالیف ہے میں کہتے ہیں کہ ان الله يبعث لهذه الامۃ یعنی جب سنت ختم ہوگی اور بدعت ظاہر ہو جائے گی اور صدی کے سر سے مراد حضور علیہ السلام کی بعثت یا وفات یا اس حدیث کے بیان کرنے کے ایک سوسال بعد ہے۔پس ترجیحی بات یہ ہے کہ ہر صدی کے سر سے مراد ایک صدی کا سارا زمانہ ہے۔گویا ایک سوسال کے اندراندر مجد دضرور