مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 4
4 طرق اور قواعد محفوظ نہیں رہے ان کو مجدداً تاکید بالاصل بیان کیا جائے۔و قال اللہ تعالیٰ اعلموا ان الله يحى الارض بعد موتها۔یعنی عادت اللہ اسی پر جاری ہے کہ دل مرجاتے ہیں اور محبت الہیہ دلوں سے ٹھنڈی ہو جاتی ہے اور ذوق اور شوق اور حضور اور خضوع نمازوں میں نہیں رہتا اور اکثر لوگ رُو بہ دنیا ہو جاتے ہیں اور علماء میں نفسانیت اور فقراء میں عجب اور پست ہمتی اور انواع اقسام کی بدعات پیدا ہو جاتی ہیں۔تو ایسے زمانہ میں خدا تعالیٰ صاحب قوت قدسیہ پیدا کرتا ہے اور وہ حجتہ اللہ ہوتا ہے اور بہتوں کے دلوں کو خدا کی طرف کھینچتا ہے اور بہتوں پر اتمام حجت کرتا ہے۔یہ وسوسہ بالکل نکتا ہے کہ قرآن شریف و احادیث موجود ہیں پھر مجدد کی کیا ضرورت ہے۔یہ انہی لوگوں کے خیالات ہیں جنہوں نے کبھی غمخواری سے اپنے ایمان کی طرف نظر نہیں کی۔اپنی حالت اسلامیہ کو نہیں جانچا۔اپنے یقین کا اندازہ معلوم نہیں کیا بلکہ اتفاقاً مسلمانوں کے گھر پیدا ہو گئے اور پھر رسم و عادات کے طور پر لا الہ الا اللہ کہتے رہے۔حقیقی یقین اور ایمان بجر صحبت صادقین میتر نہیں آتا۔قرآن شریف تو اس وقت بھی ہو گا جب قیامت آئے گی مگر وہ صدیق لوگ نہیں ہوں گے جو که قرآن شریف کو سمجھتے تھے اور اپنی قوت قدسی سے مستعدین پر اس کا اثر ڈالتے تھے لایمسه الا المطهرون۔پس قیامت کا وجود مانع صرف صدیقوں کا وجود ہے۔قرآن شریف خدا کی رُوحانی کتاب ہے اور صدیقوں کا وجود خدا کی ایک مجسم کتاب ہے۔جب تک یہ دونوں نمایاں انوار ایمانی ظاہر نہیں ہوتے تب تک انسان خدا تک نہیں پہنچتا۔فتدبروا و تفکروا۔(حیات احمد جلد دوم نمبر سوم - صفحہ 8-9) مجد د کب پیدا ہوتے ہیں فرمایا: یعنی عادت اللہ اسی طرح پر جاری ہوتے ہیں کہ جب دل مرجاتے ہیں اور محبت اللہ دلوں سے ٹھنڈی ہو جاتی ہے اور ذوق اور شوق اور حضور اور خضوع نمازوں میں نہیں رہتا۔اور اکثر لوگ رو بدنیا ہو جاتے ہیں اور علماء میں نفسانیت اور فقراء میں عجب اور پست ہمتی اور انواع و اقسام کی بدعات پیدا ہو جاتی ہیں تو ایسے زمانہ میں خدا تعالیٰ صاحب قوت قدسیہ کو پیدا کرتا ہے اور وہ حجت اللہ ہوتا ہے اور بہتوں کے دلوں کو خدا تعالیٰ کی طرف کھینچتا