مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 343 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 343

343 ہے تو کسی جگہ آنکھوں سے معذور لوگوں کو نور بصارت کا تحفہ دیتی ہے۔جن کے اعضاء کاٹ دیے گئے ان کو مصنوعی اعضاء مہیا کرتی ہے۔بے خانماں لوگوں کے گھر بناتی ہے اور گھر گھر جا کر بھو کے افراد کو کھانا اور بچوں کو دودھ مہیا کرتی ہے۔یہ ساری خدمت کسی شہرت کیلئے نہیں کرتی ، نہ ہی کسی دنیوی جزا کیلئے محض رضاء باری کی خاطر کہ یہی اسلام کی تعلیم اور یہی احمدیت کا شعار ہے۔جماعت احمد یہ ایک دینی اور روحانی جماعت ہے۔اس کا مقصد ساری دنیا والوں کو خدا تعالیٰ کی طرف بلانا، اسلام کی دعوت کو اکناف عالم تک پہنچانا اور بنی نوع انسان میں ایک پاکیزہ انقلاب برپا کرنا ہے۔ان مقاصد عالیہ کے ساتھ ساتھ جماعت اپنے محدود وسائل کے ذریعہ حتی الامکان بنی نوع انسان کی علمی ، سماجی اور جسمانی فلاح و بہبود کیلئے دن رات سرگرم عمل رہتی ہے کہ یہ بھی دین اسلام کا حصہ ہے اور خدا کی نظر میں پسندیدہ۔دنیا کے وہ ممالک جن میں تعلیمی یا بی سہولتوں کا فقدان یا کمی ہے ان ممالک میں جماعت احمدیہ نے اس خدمت کا علم سالہاسال سے بلند کر رکھا ہے اور بلا امتیاز مذہب و ملت، بنی نوع انسان کی سچی اور بے لوث خدمت کے جذبہ سے سرشار، ہر میدان میں مصروف عمل ہے۔جہاں تک اعداد و شمار کا تعلق ہے اس وقت دنیا کے 176 ممالک میں جماعت احمدیہ مستحکم طور پر قائم ہو چکی ہے۔13291 مساجد تعمیر ہو چکی ہیں۔اس روحانی فیض رسانی کے ساتھ ساتھ اس وقت جماعت کی طرف سے ترقی پذیر ممالک میں 373 سکول اور 5 کالج جاری ہیں جو لاعلمی کی تاریکیوں میں علم کی روشنی پھیلا رہے ہیں۔اسی طرح 36 ہسپتال جاری ہیں جہاں غرباء کو بلا معاوضہ طبی سہولتیں مہیا کی جاتی ہیں۔خدمت خلق کے میدان میں ایک اور عظیم خدمت جو جماعت احمدیہ نے بالخصوص خلافت رابعہ کے دور میں سرانجام دی، وہ ہومیو پیتھی کے ذریعہ ساری دنیا میں اس مفید اور مؤثر ذریعہ علاج کے علم کا عام کرنا ہے۔اس کا سہرا حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کے سر ہے۔جنہوں نے رات دن ایک کر کے اس بارہ میں لیکچر بھی دیئے اور کتب بھی لکھیں اور عملی طور پر ساری دنیا اور بالخصوص غریب ممالک میں ہومیو پیتھی ڈسپنسریوں کا جال بچھا دیا۔اس وقت 55 ممالک میں 632 ہو میو پیتھک شفاخانے قائم ہو چکے ہیں۔غریب اور مفلوک الحال لوگوں کیلئے یہ غیر معمولی طور پر مؤثر ذریعہ علاج اتنی وسعت اور سہولت سے مہیا ہو گیا ہے کہ عملاً ہر احمدی گھرانہ ایک مرکز شفاء بن گیا ہے۔جس کا فیضان صرف احمد یوں تک محدود نہیں بلکہ کل دنیا تک پہنچ رہا ہے۔