مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 294
294 بزرگ صوفی حضرت خواجہ غلام فرید : آف چاچڑاں شریف (1287ھ تا1319ھ) حضرت آدم صفی اللہ سے لے کر خاتم الولایت امام مہدی تک حضور حضرت محمد مصطفی امی بارز ہیں۔پہلی بار آپ نے حضرت آدم علیہ السلام میں بروز کیا ہے۔۔۔اس کے بعد دوسرے مشائخ عظام میں نوبت بہ نوبت بروز کیا ہے اور کرتے رہیں گے۔حتی کہ امام مہدی میں بروز فرمائیں گے۔پس حضرت آدم سے امام مہدی تک جتنے انبیاء اور اولیا، قطب مدار ہوئے ہیں تمام روح محمدی ہے کے مظاہر ہیں۔( مقابیس المجالس صفحہ 419 - مقبوس نمبر 63۔از مولا نارکن الدین۔ترجمہ پاکستان واحد بخش سیال اسلامک بک فاؤنڈیشن لاہور صوفی فاؤنڈیشن بہاولپور) شیعہ مجتہد علی الحائری: ( 1288ھ تا1360ھ) حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حضرت مسیح پر افضلیت واضح اور ثابت ہے“۔(غایۃ المقصود۔جلد نمبر 2 صفحہ 38- از مولوی سید علی الحائری مطبع مشمس الہند لا ہور ) شیعہ مجتہد مولانا سید محمد سبطین صاحب نے 1335ھ میں لکھا:۔صلى الله ” مہدی نفس رسول الله ﷺ و مظہر اوصاف رسول اللہ ﷺ ونائب خاص رسول اور آئینہ کمالات رسول مہ ہے اور ظہور انوار محمد و اوصاف و کمالات محمدی اس جناب پر موقوف ہے۔پس چاہیے کہ وہ ہم شکل و ہم نام و هم کنیت و جز و نور محمدی خلق اور سیرت میں بھی مثل محمد ہوں بلکہ ایسا ہونا ضروری ولازمی ہے۔الصراط السوی فی احوال المهدی صفحہ 409-از مولانا سید محمد سبطین ناشر مینجر البرہان بک ڈپو A-33 عمر روڈ اسلام پورہ لاہور ) قاری محمد طیب سابق مہتمم دارالعلوم دیوبند : (1320ھ تا1403ھ) (i) چونکہ حضرت عیسوی کے وجود میں آنے کا باعث صورت محمد ی میں تمثل ہوا۔ہوا ہے اور آپ حضور کے ابن تمثالی ثابت ہوتے ہیں۔اس لیے الولد سر لابیہ کے اصول پر ذات عیسوی کو حضور کی ذات اقدس سے وہ خاص خصوصیات پیدا ہو گئیں جو قدرتی طور پر اور انبیاء علیہم السلام کو نہیں