مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page xxxii of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page xxxii

V تو وہاں کی صدی کے سر پر مجدد کی بعثت بھی ہوگی۔یہی مقصد ان الفاظ سے عیاں ہے کہ على راس كل مائة سنة کہ جہاں جہاں صدی پوری ہورہی ہوگی اور امت کا وجود وہاں ہے تو مجد دضرور مبعوث ہو گا اور یہی وجہ ہے کہ جس حد تک معروف مجددین گزرے ہیں ان کی تعداد تیرہ چودہ سے کہیں زائد ہے اور بہت سے ایسے بھی ہو سکتے ہیں جو عالمی سطح پہ شمار میں نہیں آتے لیکن ظہور ان کا لازماً ہوا ہے۔امت کے روشن مستقبل کے متعلق دوسری عظیم بشارت: جب مجددین کا سلسلہ تیرہ صدیوں تک جاری رہا ( جن کی تفصیل اس کتاب میں قارئین ملاحظہ فرما ئیں گے ) تو دوطرح کے نئے تقاضے سامنے آئے۔اول: تیرہ صدیوں کی مساعی کے باوجود امت کی وحدت بحال نہ ہوئی۔جو نظام تجدید کے مؤثر ہونے کا ایک طبعی نتیجہ ٹھہرتا ہے۔اگر چہ وقتی، مقامی یا علاقائی سطح پہ بنیادی اسلامی تعلیمات پر تجدید کے مثبت اثرات دنیا کے مشاہدہ میں آتے رہے مگر اندرونی تفرقہ نہ مٹا اور وحدت قائم نہ ہو پائی۔دوئم دین مصطفوی کے خلاف بیرونی مخالفت مختلف پہلوؤں سے منتظم سطح پر شروع ہوگئی۔عیسائیت کی یلغار، یہودی اور دہر یہ نظاموں کی مخالفانہ ریشہ دوانیاں، ہندو دھرم اور دیگر تہذیبوں اور سوسائٹیوں اور ایجنسیوں کا ٹارگٹ صرف امت بیچاری کو بنالیا گیا۔عالمی سطح پر ذرائع رسل و رسائل، پریس میڈیا وغیرہ کی مہمات منظم انداز سے اس حد تک مجتمع ہو گئیں کہ اس امت کے اندر سے بھی بہت سے ایسے طبقات کا تعاون انہیں حاصل ہو گیا جو امت کی وحدت کو پامال کرنے کا رویہ شروع سے اپنائے چلے آرہے ہیں۔گویا امت پر اندرونی اور بیرونی سطح پر بڑا مشکل اور کڑا وقت آ گیا اور یہ حالات متقاضی تھے کہ مجدد کے لیول (Level) سے اوپر کوئی آسمانی اہتمام ہو اور اسی صورتحال سے نپٹنے کیلئے آنحضرت ﷺ نے وہ عظیم بشارت امت کو عطا فرمائی جو مسند احمد جلد 4 صفحہ 273 اور مشکوۃ باب الانذار والنتخذ یر میں مذکور ہے۔اس کا ترجمہ حسب ذیل ہے۔ترجمہ: حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ تمہارے اندر نبوت موجود رہے گی جب تک اللہ تعالیٰ چاہے گا پھر اللہ تعالیٰ یہ نعمت بھی اٹھالے گا۔پھر ایک طاقتور اور مضبوط بادشاہت کا دور آئے گا۔جب تک اللہ تعالیٰ چاہے گا