مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 201
201 دوران حضرت رسالت مآب ﷺ نے خواب میں آپ کو بشارت دی۔ان مراد الحق فيك ان يجمع شملا من شمل الامة المرحومة بک“۔ھے تمہارے متعلق خدا کا ارادہ پختہ ہو چکا ہے کہ امت مرحومہ کے جتھوں میں سے کسی جتھے کی تنظیم تمہارے ذریعہ سے کی جائے۔تجدیدی کارنامے چونکہ آپ کے عہد میں مسلمان روبہ زوال تھے اس لیے آپ نے مسلمانوں کی اندرونی اصلاح کی طرف خصوصیت سے توجہ کی۔آپ نے مسلمانوں کو قرآن وسنت پر عمل پیرا ہونے کی تلقین کی اور فلسفہ ومنطق کارڈ کیا۔صوفیاء اور امراء کو متنبہ کیا اور اس کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو جہاد کی تلقین کی۔آپ کا سب سے بڑا کارنامہ آپ کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ آپ نے قرآن مجید کا سب سے پہلا فارسی ترجمہ کیا۔آپ کی دور بین نگاہ نے مسلمانوں کے زوال کا راز بھانپ لیا تھا۔آپ سمجھتے تھے کہ مسلمانوں کی بد بختی کا سبب قرآنی تعلیمات سے انحراف ہے۔اور ہندوستان میں اس وقت عام بولی جانے والی زبان فارسی تھی۔آپ نے محسوس کیا کہ جب تک اپنی زبان میں عوام الناس قرآن سمجھ نہ لیں اس وقت تک پر حقیقی رنگ میں عمل پیرا نہیں ہو سکتے۔لہذا آپ نے فارسی میں قرآن کا ترجمہ کر کے علماء ہند اور عوام کو قرآن حکیم کے سرچشمہ سے براہ راست فیوض و برکات حاصل کرنے کی دعوت دی۔آپ کا یہ کارنامہ ایک سنگ میل ثابت ہوا اور اس کی پیروی حضرت شاہ رفیع الدین صاحب نے لفظی اور شاہ عبد القادر صاحب نے بامحاورہ اُردو تر جمہ کیا۔یوں ہندوستان میں قرآنی علوم و معارف کو ہر خاص و عام سے متعارف کروانے کا سہراشاہ صاحب کے سر ہے۔اس پر لیکن زمانے کی ستم ظریفی ملاحظہ ہو کہ آپ کو اس شاندار کام ( جوا کیلا ہی آپ کو امام وقت اور مجد دزمانہ ثابت کرنے کیلئے کافی ہے) کی وجہ سے آپ پر کفر کا فتویٰ لگایا گیا۔اناللہ وانا الیہ راجعون۔قرآن کریم کی خدمت کا دوسرا اظہار آپ نے اپنا رسالہ ” الفوز الکبیر “ لکھ کر کیا جس میں اصول